رسائی کے لنکس

بلوچستان: شدت پسندوں کے حملے میں پانچ اہلکار ہلاک

  • ستار کاکڑ

فائل فوٹو

فائل فوٹو

حملہ آوروں نے کوئلے کی کانوں والے علاقے میں موجود ایف سی کی چیک پوسٹ پر پہلے راکٹ داغے اور پھر اس پر جدید ہتھیاروں سے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔

بلوچستان کے ضلع لورالائی کے علاقے دُکی میں فرنٹیئر کور کی ایک چیک پوسٹ پر نا معلوم مسلح افراد نے خود کار ہتھیاروں سے حملہ کر کے نیم فوجی دستے ایف سی کے پانچ اہلکاروں کو ہلاک اور ایک کو زخمی کر دیا۔

ڈی ایس پی لورالائی عزیز بُزدار کے مطابق دو گاڑیوں میں سوار نا معلوم مسلح افراد جمعرات کو علی الصبح تین بجے دُکی کے علاقے میں واقع کوئلے کی کانوں والے علاقے میں داخل ہو ئے اور وہاں قائم ایف سی کی ایک چیک پوسٹ پہلے دو راکٹ داغے اور بعد ازاں جدید ہتھیاروں سے اندھا دُھند فائرنگ کی

اس حملے میں چیک پوسٹ میں موجود اہلکاروں میں سے پانچ ہلاک اور ایک شدیدزخمی ہو گیا۔ مسلح افراد حملے کے بعد جائے وقوع سے فرار ہوگئے۔

کو ئٹہ میں ایف سی اور لورالائی کی انتظامیہ کے مطابق اس واقعے کے بعد پولیس، ایف سی اور لیویز اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے حملہ آوروں کی تلاش شروع کردیا اور درجن سے زائد مشتبہ افراد کو تحویل میں بھی لیا گیا۔

اس واقعے کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ یا فرد نے قبول نہیں کی۔ تاہم تحصیل دُکی کا ایک بڑا حصہ ضلع کوہلو سے ملحقہ ہے اور ضلع کوہلو کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کا مرکز قرار دیاجاتا ہے اور یہ تنظیم صوبے میں پرتشدد کارروائیاں کرتی رہی ہے۔

یہاں تیل وگیس کے علاوہ کوئلہ اور دیگر معدنیات کے بڑے ذخائر موجود ہیں۔

گزشتہ سال پندرہ جون کو کالعدم بی ایل اے سے تعلق رکھنے والے مسلح افراد نے قائداعظم سے منسوب زیارت ریذیڈنسی کو بم دھماکوں سے تباہ کردیا تھا۔ پولیس اور ایف سی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ ریذیڈنسی پر حملہ کرنے والے مسلح افراد نے تحصیل دُکی کے راستے کو ہی استعمال کیا تھا۔

بلوچستان میں چند علاقوں چمالانگ، دُکی، مچھ سنجیدی ، مارواڑ میں زیر زمین کوئلے کے بڑے بڑے ذخائر موجود ہیں اور یہاں لگ بھگ چالیس ہزار افراد کوئلہ نکالنے کے کام سے وابستہ ہیں۔ ان کو ئلہ کانوں پر اکثر و بیشتر بلوچ عسکر ی تنظیمیں حملے کرتی رہتی ہیں اور بعض اوقات مزدوروں کو بھی اغوا کر لیا جاتا ہے۔

2012ء میں سات کانکنوں کو اغوا کرنے کے بعد قتل کردیا گیا تھا جبکہ 2013 میں اغوا کئے جانے والے 8 کانکنوں کو بعد رہا کردیا گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG