رسائی کے لنکس

بلوچستان: غذائی قلت کے شکار بچوں تک خوراک کی فراہمی کی کوشش


فائل فوٹو

فائل فوٹو

بلوچستان کے ایڈیشنل سیکرٹری صحت عبداللہ خان اور یونیسیف کی پاکستان میں نمائندہ انجیلا کیرنی کے درمیان ماؤں اور بچوں کے لیے آٹھ لاکھ چوالیس ہزار ڈالر مالیت کی غذائی اشیا کی خریداری کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہوئے۔

پاکستان کے کئی علاقے غذائی قلت کا شکار ہیں جس سے عورتیں اور بچے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ مناسب خوراک نہ ملنے کے باعث بہت سے بچے مختلف بیماریوں اور نشو و نما کے مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔

پاکستان میں غذائی قلت کم عمر بچوں کی موت کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔

بلوچستان کے بعض حصے بھی انہی علاقوں میں شامل ہیں جہاں بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔ اس سے نمٹنے کے لیے دو روز قبل بلوچستان کی حکومت اور اقوام متحدہ کے ادارہ اطفال ’یونیسیف‘ کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط ہوئے۔

بلوچستان کے ایڈیشنل سیکرٹری صحت عبداللہ خان اور یونیسف کی پاکستان میں نمائندہ انجیلا کیرنی کے درمیان ماؤں اور بچوں کے لیے آٹھ لاکھ چوالیس ہزار ڈالر مالیت کی غذائی اشیا کی خریداری کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہوئے۔

پاکستان میں 2011ء کے قومی غذائی سرو ے کے مطابق غذا کی دائمی کمی کے باعث ملک میں پانچ سال سے کم عمر کے 44 فیصد بچوں کی نشوونما انتہائی سست ہے۔

عموماً معاشی طور پر کمزور خاندانوں کی عورتیں اور بچے غذائی قلت کا شکار ہوتے ہیں کیونکہ ان کی غذا میں افزائش کے لیے ضروری اجزا شامل نہیں جس کی وجہ سے وہ کمزور رہ جاتے ہیں۔

حکومت پاکستان کے اعلیٰ عہدیدار بھی یہ کہتے آئے ہیں کہ غذائی قلت کے باعث ملک کے مستقبل کی ضمانت، نئی نسل کی درست نشو و نما نا ہونے سے ترقی کے اہداف حاصل نہیں ہو سکیں گے اس لیے اس پر حکومت خاص توجہ دے رہی ہے۔

XS
SM
MD
LG