رسائی کے لنکس

بلوچستان میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی، 13 ہلاک

  • ستارکاکڑ

فائل فوٹو

فائل فوٹو

صوبے کے مختلف علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں 400 اہلکار حصہ لے رہے ہیں جب کہ اُنھیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے فضائی مدد بھی حاصل ہے۔

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف فرنٹیئر کور ’ایف سی‘ کی کارروائیاں جمعہ کو دوسرے روز بھی جاری رہیں جن میں سرکاری عہدیداروں کے مطابق کم از کم 13 عسکریت پسند مارے گئے جب کہ چھ شدت پسند زخمی بھی ہوئے۔

ایف سی کے ایک تحریری بیان میں بتایا گیا ہے کہ مستونگ، قلات پنجگور اور گوادر کے مختلف پہاڑی علاقوں میں شر پسندوں کے خلاف بھر پور کارروائیاں کی جاری ہیں۔

ان کارروائیوں میں ایف سی کے تین اہلکار زخمی بھی ہوئے۔

سرکاری بیان کے مطابق شدت پسندوں کے ٹھکانوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود برآمد کیا گیا ہے جن میں دستی بم بھی شامل ہیں۔

صوبے کے مختلف علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں 400 اہلکار حصہ لے رہے ہیں جب کہ اُنھیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے فضائی مدد بھی حاصل ہے۔

صوبائی سیکرٹری داخلہ اکبر حُسین دُرانی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ شر پسندوں کے خاتمے کے لیے بھرپور کوششیں جاری ہیں۔

’’گوادر تربت یا اُن کے قریب جو علاقے ہیں وہاں (شدت پسندوں کا تعلق) کالعدم تنظیموں سے ہے، وہ فورسز کے ساتھ مقابلہ کرتے ہیں اور اُس مقابلے میں فورسز کا بھی کئی مرتبہ نقصان ہوتا ہے لیکن اُن کو بھی کیفر کردار تک پہنچایا جاتا ہے۔‘‘

کالعدم بلوچ عسکری تنظیم یونائیٹیڈ بلوچ آرمی کے ترجمان مرید بلوچ نے دعویٰ کیا ہے کہ ضلع قلات میں ’ایف سی‘ کے اہلکاروں پر حملہ کیا گیا ہے جس میں ایک افسر سمیت متعدد اہلکار ہلاک ہوئے۔

تاہم سرکاری طور پر اس بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔

اُدھر کوئٹہ کے نواحی علاقے سریاب روڈ پر صوبہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے دو برتن فروشوں کو نا معلوم مسلح افراد نے سر میں گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے جس کی ذمہ داری کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کر لی ہے۔

صوبے میں دیرپا قیام امن کے لیے جہاں حکومت نے ناراض بلوچ رہنماؤں کو قومی دھارے میں لانے کے لیے اُن کے ساتھ بات چیت کے لیے کوششیں کیں وہیں شدت پسندوں کے خلاف انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں بھی کی جا رہیں۔

حالیہ مہینوں میں بلوچستان میں مقامی فورسز کے بعض دستوں کی فوج کی نگرانی میں تربیت بھی مکمل کی گئی تاکہ وہ شدت پسندوں کے خلاف موثر کارروائی کر سکیں۔

XS
SM
MD
LG