رسائی کے لنکس

بلوچستان: گھر میں گیس بھرنے سے کم ازکم نو افراد ہلاک


فائل فوٹو

فائل فوٹو

لیویز حکام کے مطابق کلی کربلا سیداں میں ایک گھر کے باہر قدرتی گیس سے چلنے والے ایک جنریٹر سے خارج ہونے والی گیس خارج ہوکر گھر کے ایک کمرے میں بھر گئی جس سے وہاں سوئے ہوئے چھ بچے اور تین خواتین دم گھٹنے سے ہلاک ہو گئیں۔

پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان کے ضلع پشین کے ایک گھر میں گیس بھر جانے سے چھ بچوں سمیت کم ازکم نو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

لیویز حکام کے مطابق کلی کربلا سیداں میں ایک گھر کے باہر قدرتی گیس سے چلنے والے ایک جنریٹر سے خارج ہونے والی گیس خارج ہوکر گھر کے ایک کمرے میں بھر گئی جس سے وہاں سوئے ہوئے چھ بچے اور تین خواتین دم گھٹنے سے ہلاک ہو گئیں۔

لیویز کے عہدیدار حبیب اللہ ناصر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ رات کو گیس کی سپلائی معطل ہونے کی وجہ سے جنریٹر بند ہو گیا اور جب گیس بحال ہوئی تو جنریٹر دوبارہ نہیں چل سکا جس سے یہ گیس خارج ہو کر کمرے میں بھر گئی۔

"نو لاشیں ملی ہیں ان میں مرد کوئی بھی نہیں، سب کے سب ایک ہی خاندان کے ہیں، تین عورتیں ہیں اور بچوں میں چار لڑکے اور دو لڑکیاں ہیں، صرف ایک لڑکی 14 سال کی تھی جب کہ باقی بچوں کی عمریں چھ سال سے کم ہیں۔"

ان کا کہنا تھا کہ اس خاندان کے دیگر افراد کراچی میں رہتے ہیں اور ان کے یہاں پہنچنے پر لاشیں ان کے حوالے کر دی جائیں گی۔

پاکستان کو توانائی کے شدید بحران کا سامنا ہے اور سرد موسم میں لوگ گیس کی کھپت بڑھ جانے کی وجہ سے گیس کی طلب اور رسد میں فرق بھی بڑھ جاتا ہے اور اسی باعث گیس کی لوڈ شیڈنگ بھی شروع ہو جاتی ہے۔

بعض اوقات لوگ گیس سے چلنے والے ہیٹر یا دیگر آلات کو ٹھیک سے بند کرنا بھول جاتے ہیں اور ان کی یہ ذرا سی لاپرواہی اکثر ان کی موت کا سبب بھی بن جاتی ہے۔

متعلقہ محکموں نے اخبارات اور دیگر ذرائع ابلاغ پر آگاہی مہم بھی شروع کر رکھی ہے کہ گیس سے چلنے والے آلات کے استعمال میں احتیاط برتی جائے اور خاص طور پر رات کو سوتے ہوئے پوری طرح اطمینان کر لیا جائے کہ کہیں کوئی چولہا یا ہیٹر کھلا تو نہیں رہ گیا تاکہ کسی بھی ناخوشگوار سے بچا جاسکے۔

لیکن پھر بھی کمرے میں گیس بھر جانے سے لوگوں کی اموات کی خبریں موسم سرما کے دوران ملک کے مختلف حصوں سے موصول ہوتی رہتی ہیں۔

XS
SM
MD
LG