رسائی کے لنکس

بلوچستان:بلدیاتی انتخابات کے لیے پولنگ مکمل


فائل فوٹو

فائل فوٹو

جماعتی بنیادوں پر ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں تقریباً سات ہزار نشستوں کے لیے 34 لاکھ رجسٹرڈ ووٹرز تھے اور ابتدائی اندازوں کے مطابق ووٹ ڈالنے کی شرح عام انتخابات کی نسبت کم رہی۔

رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات کے لیے ہفتہ کی صبح آٹھ بجے پولنگ کا آغاز ہوا جو بغیر کسی وقفے کے شام پانچ بجے تک جاری رہی۔

جماعتی بنیادوں پر ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں تقریباً سات ہزار نشستوں کے لیے 34 لاکھ رجسٹرڈ ووٹرز تھے اور ابتدائی اندازوں کے مطابق ووٹ ڈالنے کی شرح عام انتخابات کی نسبت کم رہی۔ دو ہزار سے زائد نشستوں پر امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوگئے۔

پولنگ کے موقع پر امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے صوبے بھر میں پچپن ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے جن میں چار ہزار کے لگ بھگ فوجی جوان بھی شامل تھے۔

قائم مقام چیف الیکشن کمشنر جسٹس ناصر الملک نے کوئٹہ میں پولنگ اسٹیشن کا دورہ کیا اور اس موقع پر صحافیوں سے گفتگو میں انھوں نے انتخابی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔

جسٹس ناصر الملک نے انتخابی عمل اور سکیورٹی انتظامات سے متعلق انتظامیہ کے اقدامات کو سراہتے ہوئے سیاسی قیادت کے کردار کو بھی سراہا جس نے ان کے بقول اس عمل کی حمایت کے ساتھ ساتھ اس میں کسی طرح کی مداخلت نہیں کی۔

بعض مقامات پر رائےدہندگان کی فہرستیں نہ ملنے یا انتخابی عملہ اور سامان تاخیر سے پہنچنے یا امیدواروں کے درمیان رائے دہندہ کی شناخت کے تنازعات کےباعث پولنگ کا عمل تعطل کا شکار ہوا۔

چند علاقوں سے خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکے جانے کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جب کہ ضلع خضدار کے علاقے باغبانا میں دو گروپوں کے درمیان تصادم کے پولنگ کا عمل کچھ دیر کے لیے تعطل کا شکار ہوا۔

صوبے کے وزیراعلیٰ عبدالمالک بلوچ نے صحافیوں سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جن علاقوں سے شکایات موصول ہوئیں وہاں پر الیکشن کمیشن کی ہدایات کے مطابق معاملات کو درست کرنے کے احکامات دے دیے گئے۔

ان کا کہنا بلوچستان نے دیگر صوبوں سے پہلے بلدیاتی انتخاب منعقد کروا کر دوسروں کے لیے ایک مثبت پیغام دیا ہے۔

’’یہ دوسرے صوبوں کو بھی پیغام جاتا ہے کہ جہاں حالات بہت اچھے ہیں لیکن وہ انتخابات نہیں کروا رہے۔ بلوچستان جن مشکلات سے گزر رہا ہے ہم نے سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن کے احکامات کو مان کر یہ ثابت کر دیا کہ ہم جمہوری لوگ ہیں اور جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں۔‘‘

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق دو ہزار پانچ سو سات امیدوار پہلے ہی بلا مقابلہ منتخب ہوچکے ہیں۔

صوبے بھر میں ہفتہ کو عام تعطیل تھی جب کہ دفعہ 144 نافذ کیے جانے کے بعد موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر بھی پابندی تھی۔

بعض علیحدگی پسند تنظیموں کی طرف سے بلدیاتی انتخابات کے بائیکاٹ کے اعلان کے علاوہ یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ انھوں نے لوگوں کو ووٹ ڈالنے سے منع کیا۔
مجموعی طور پر کسی بھی طرح کے بڑے ناخوشگوار واقعے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

سپریم کورٹ نے چاروں صوبوں کو بلدیاتی انتخابات کروانے کی ہدایت کر رکھی ہے لیکن بلوچستان کے علاوہ باقی صوبوں میں انتخابات کے انعقاد کے اعلان کے باوجود حتمی طور پر انتظامات مکمل نہ ہونے کے باعث ان میں ایک بار پھر تاخیر کا خدشہ ہے۔
XS
SM
MD
LG