رسائی کے لنکس

بلوچستان: خسرے کی وبا پھیلنے سے پانچ بچے ہلاک، درجنوں متاثر


فائل فوٹو

مرض پر قابو پانے کے لیے کوئٹہ سے طبی امداد کی ٹیمیں دونوں علاقوں میں پہنچا دی گئی ہیں۔

پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان کے دو اضلا ع میں خسر ہ کی وبا پھیلنے سے پانچ بچے موت کا شکار ہوئے گئے جب کہ درجنوں اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

مرض پر قابو پانے کے لیے کوئٹہ سے طبی امداد کی ٹیمیں دونوں علاقوں میں پہنچا دی گئی ہیں۔

صوبے کے جنوب مغربی ضلع آواران کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر نور بخش نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ تحصیل مشکے میں دو روز پہلے خسرہ کی وبا پھیلی تھی جس سے ایک ہی خاندان کے پانچ بچے موت کا شکار ہوئے جب کہ دیگر 37 افراد کو اسپتال میں علاج کے لئے داخل کردیا گیا ہے۔

ان کے بقول ہفتے کے روز بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے لئے جب ٹیمیں اس تحصیل میں گئیں تو انھیں خسرے سے بچوں کی ہلاکت اور تازہ صورتحال کا علم ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ فوری طور پر علاقے میں محکمہ صحت کی تین ٹیمیں پہنچ گئیں اور لوگوں کو طبی امداد کی فراہمی شروع کردی گئی اور اب مرض پر قابو پا لیا گیا ہے۔

اُدھر بلوچستان کے شمالی ضلع ژوب کی تحصیل تنگ سر میں بھی خسرے کی وبا پھیلنے سے ایک درجن سے زائد بچوں کو مقامی اسپتال میں داخل ہونا پڑا جن میں چار بچوں کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔

کوئٹہ میں سیکرٹری صحت انوارالحق بلوچ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ خسرے کی اطلاعات موصول ہونے کے بعد دونوں اضلاع میں لوگوں کو طبی سہولتوں کی فراہمی اور وبا پر قابو پانے کے لئے ڈاکٹر اور طبی عملے پر مشتمل ٹیمیں ضروری ادویات کے ساتھ متاثرہ علاقوں میں روانہ کر دی گئی ہیں۔

ان کے بقول متعلقہ اضلاع کے محکمہ صحت کے افسران کو بھی ہدایات دے دی گئی ہیں کہ وہ وبا پر قابو پانے کے لئے ہر ممکن اقدام کریں۔

بلوچستان معدنی وسائل سے مالامال لیکن پاکستان کا پسماندہ ترین صوبہ ہے جہاں صحت کے شعبے کی حالت غیر تسلی بخش ہونے کی وجہ سے مقامی آبادی اکثر شکایت کرتی نظر آتی ہے۔

XS
SM
MD
LG