رسائی کے لنکس

حکومت کی عملداری قبول کرنے والے بلوچوں کو خوش آمدید کہیں گے: سرفراز بگٹی


فائل فوٹو

فائل فوٹو

صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ پالیسی پر کام مکمل ہو چکا ہے جس کی منظوری کے بعد اس کا اعلان آئندہ چند روز میں کر دیا جائے گا۔

پاکستان کے شورش زدہ صوبہ بلوچستان میں حکومت ایک ایسی پالیسی متعارف کروانے جا رہی ہے جس میں ریاستی عملداری کو قبول کرنے کے خواہشمند ناراض بلوچوں کو رعایت اور سہولت فراہم کی جائے گی۔

صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے بتایا کہ پالیسی پر کام مکمل ہو چکا ہے جس کی منظوری کے بعد اس کا اعلان آئندہ چند روز میں کر دیا جائے گا۔

"ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے وہ لوگ جو خود تو سوئٹزرلینڈ اور یورپ میں بیٹھے ہیں معصوم بلوچوں کو ورغلا کر اس جنگ میں دھکیل چکے ہیں۔ اگر کوئی واپس قومی دھارے میں آنا چاہتا ہے تو ہمیں اس کو خوش آمدید کرنا چاہیئے۔۔۔ حد فاصل آئین پاکستان ہے۔ اس میں رہتے ہوئے جو بھی آنا چاہے اس کو ہم خوش آمدید کہتے ہیں۔"

ان کا کہنا تھا کہ جو بھی مذاکرات کرنا چاہے اور بات چیت کے ذریعے معاملات کو حل کرنا چاہے اس کے لیے حکومت کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں۔ ان کے بقول اگر ایسا ہوتا ہے تو بہت اچھی بات ہوگی۔

حالیہ مہینوں میں سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں بھی کیں جن میں متعدد افراد ہلاک ہوئے جب کہ بعض مقامات سے مسلح کارروائیوں میں سرگرم رہنے والے دو درجن سے زائد افراد نے ہتھیار پھینک کر ریاستی عملدراری کی پاسداری کرنے کا حلف بھی اٹھایا۔

صوبائی وزیرداخلہ سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ جو لوگ ریاست مخالف مسلح کارروائیاں ترک کریں گے ان کی آباد کاری اور بحالی کے لیے حکومت ان کی مدد کرے گی۔

"اس میں فرنٹیئر کور اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ وہ اپنے وسائل کے ساتھ ان افراد کی اور ان کے بچوں کی تعلیم کے لیے مدد کر رہی ہے۔ حکومت نے ایک پالیسی دی ہوئی ہے جو کہ ابھی منظوری کے مراحل میں ہے جو آئندہ چند دنوں میں ہو جائے گی، تو اس میں نوکریوں کا ذکر ہے اس میں کچھ پیسوں کا ذکر ہے۔"

بلوچستان میں گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے بلوچ قوم پرست صوبے کے وسائل میں زیادہ اختیارات اور خطے کی خودمختاری کے لیے مسلح کارروائیاں کرتے آرہے ہیں۔

مرکزی حکومت نے ایسے ناراض بلوچوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے ذمہ داری صوبائی وزیراعلیٰ عبدالمالک بلوچ کو سونپی تھی جن کی طرف سے اس ضمن میں کی جانے والی کوششوں کے تاحال کوئی خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہو سکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG