رسائی کے لنکس

بلوچستان سے آٹھ کان کن اغوا

  • ستارکاکڑ

فائل فوٹو

فائل فوٹو

اغوا ہونے والے کان کنوں کا تعلق صوبہ خیبر پختونخواہ کے علاقے سوات سے ہے اور وہ تقریباً دس سال سے یہاں محنت مزدوری کر رہے تھے۔

بلوچستان کے ضلع ہرنائی سے نامعلوم مسلح افراد نے کوئلے کی ایک کان میں کام کرنے والے آٹھ مزدوروں کو اغوا کر لیا جس کے بعد قریبی علاقوں میں موجود دیگر کان کنوں نے احتجاجاً ہڑتال کر دی ہے۔

ضلع ہرنائی کے تحصیلدار سجاد گُل نے بدھ کو وائس آف امر یکہ کو بتایا یہ مزدور کوئلے کی کان کے قریب اپنے کیمپ میں آرام کر رہے تھے کہ چند مسلح افراد نے اس کیمپ کو گھیرے میں لے لیا اور آٹھ مزدوروں کو اغوا کر کے نامعلوم سمت فرار ہوگئے ۔

’’وہاں ابھی ہم دیکھ رہے ہیں کہ کس نے انھیں اغوا کیا ہے جو کان کا ٹھیکیدار ہے وہ شبہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ کارروائی علاقے میں سرگرم عسکریت پسندوں کی ہوسکتی ہے لیکن ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ مزدوروں نے یہاں روڈ بھی بلاک کردی ہے۔‘‘

انھوں نے بتایا کہ اغوا ہونے والے کان کنوں کا تعلق صوبہ خیبر پختونخواہ کے علاقے سوات سے ہے اور وہ تقریباً دس سال سے یہاں محنت مزدوری کر رہے تھے۔

بلوچستا ن میں اس سے قبل بھی کان کنوں اور دیگر منصوبوں پر کام کرنے والے مزدوروں کو اغوا اور قتل کیے جانے کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔

کو ئٹہ کے علاقے ڈیگار ی سے گزشتہ سال سات جو لائی کو سات کان کنوں کو مسلح افراد نے اغوا کر لیا تھا جن کی لاشیں چند روز کے بعد اُسی علاقے سے برآمد ہوئی تھیں۔ اُن کان کنوں کا تعلق بھی سوات سے بتایا گیا تھا۔

اس علاقے میں سرگرم بلوچ علیحدگی پسند گروپو ں نے یہاں کام کرنے والی تمام کمپنیوں کو خبردار کیا ہے کہ علاقے سے کو ئلے سمیت کسی بھی طرح کی معدنیات نکالنے کی کوشش نہ کی جائے بصورت دیگر اُن کو نشانہ بنایا جائے گا۔

اغوا کے تازہ واقعے کی تاحال کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

اُدھر بلوچستان کے جنوب مغربی ضلع تربت کے علاقے بلیدہ میں مبینہ طور پر سیکورٹی فورسز کی وردی میں ملبوس نامعلوم مسلح افراد نے ایک تعمیراتی کمپنی کے کیمپ پر حملہ کیا اور وہاں موجود بھاری مشینری کو نقصان پہنچایا۔ حملہ آوروں نے کمپنی کی سیکورٹی پر مامور لیویز اہلکاروں سے اسلحہ بھی چھین لیا۔

ایف سی کے ایک بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ واقعہ کی اطلاع پر فرنٹئیر کور کے اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر کاروائی شروع کر دی۔ بیان کے مطابق ایف سی اور مسلح افراد کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں فرنٹئیرکور کے دو اہلکار اور پانچ مسلح افراد ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔ اس واقعے کی ذمہ داری بلوچ ری پبلکن آرمی نے قبول کی ہے۔

قدرتی وسائل سے مالامال پاکستان کے اس جنوب مغر بی صوبے میں حالیہ برسوں میں کالعدم تنظیموں کی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے تاہم صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے ذریعے صورت حال پر قابو پانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
XS
SM
MD
LG