رسائی کے لنکس

قلات سے تعلق رکھنے والے شمس پندرانی کہتے ہیں کہ ’’ حکومت کی توجہ تعلیم اور صحت پر ہے اس پر بڑی حد تک کام ہوا ہے لیکن سہولتوں کا فقدان ہے

پاکستان کے جنوبی مغربی صوبے بلوچستان کے عوام گزشتہ ایک عشرے سے پُر تشدد واقعات کا سامنا کر تے رہے ہیں تاہم گزشتہ سال مئی میں ہونے والے انتخابات کے بعد جون میں بلوچستان کی کسی قوم پرست جماعت نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے سولہ سال کے بعد وزارت اعلیٰ کے عہدے کا حلف اُٹھایا۔

ڈاکٹر مالک نے حلف اٹھانے کے بعد پہاڑوں کارُخ کرنے والے بلوچ نوجوان سے مذاکرات کرنے، صوبے میں امن لانے، لاپتہ لوگوں کو بازیاب کروانے، اغوا برائے تاوان میں ملوث لوگوں کا قلع قمع کرنے کو اپنی حکومت کی ترجیحات قرار دیا تھا۔

اُن کی حکومت کو تقر یباً چھ ماہ ہو گئے ہیں لیکن بلوچستان کے شہر ی صوبائی حکومت کی کارکردگی سے تو مطمئن نہیں لیکن انھیں امید ہے کہ سال 2014 کے دوران صوبائی حکومت اُن کی توقعات پر پورا اُترنے کی کو شش کرے۔

قلات سے تعلق رکھنے والے شمس پندرانی کہتے ہیں کہ ’’ حکومت کی توجہ تعلیم اور صحت پر ہے اس پر بڑی حد تک کام ہوا ہے لیکن سہولتوں کا فقدان ہے تو حکومت کو چاہیے کہ بنیادی ضرورتوں مثلاً گیس، پانی، بجلی کی مکمل طور پر فراہمی کو یقینی بنائے۔ امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر ہونی چاہیے۔‘‘

کوئٹہ کے باسی محمد جعفر کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کی طرف سے اعلان کردہ ترجیحات میں سے بہت سے امور پر تاحال کوئی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔

’’اغوا برائے تاوان کو دیکھ لیں، بلوچستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کوئی قبائلی سردار اغوا ہوا ہے۔۔۔تو میں نہیں سمجھتا کہ یہ توقعات پر پورا اتری ہے، لیکن یہ ہے کہ نئے سال میں اللہ ان کو توفیق دے کہ جو وعدے انھوں نے کیے انھیں پورا کرسکے۔‘‘

صوبائی حکومت کے ترجمان جان محمد بُلید ی کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت عوام کی توقعات پر پُورا اُترنے کی ہر ممکن کو شش کرے گی۔

’’تین مہینے تو حکومت سازی میں گزر گئے پھر جو تین مہینے بچے اس میں لوگوں نے بڑی توقعات وابستہ کر رکھی تھیں، حکومت نے پوری کوشش کی کہ ان پر پورا اترے مثلاً امن و امان کے مسئلے پر بڑی حد تک بہتری آئی ہے۔ بلوچستان میں غیر محفوظ سڑکوں پر سفر میں بہتری آئی ہے، مسخ شدہ لاشیں ملنے کا سلسلہ بند ہو چکا ہے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ سال 2014ء میں دیگر شعبوں کے علاوہ تعلیم اور صحت کی شعبے میں تیزی سے کام کیا جائے گا اور مواصلات و ترقیاتی کاموں کو تیز کیا جائے گا۔

گزشتہ سال یکم جنوری سے 31 دسمبر تک صوبے کے مختلف علاقوں میں خودکش حملوں، بم دھماکوں، ہدف بنا کر قتل کرنے، ٹرین پر حملوں بارودی سُرنگ کے دھماکوں کے 250 سے زائد واقعات میں ایف سی کے 44 ، پولیس و لیویز کے28 اعلیٰ افسران سمیت 92 اہلکار ہوئے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تین صحافی، ایک درجن سے زائدعلما کرام سمیت 910 افراد ہلاک اور 1200 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

وفاقی حکومت بھی بلوچستان میں امن و امان کے قیام سمیت اسے درپیش دیگر مسائل میں اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلا چکی ہے۔

گزشتہ ہفتے وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالمالک بلوچ نے وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار سے اسلام آباد میں ملاقات کی تھی جس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ صوبے میں حکومت سلامتی کے نام پر کسی پارٹی یا گروہ کو مسلح کرنے کی پالیسی کی نہ صرف حوصلہ شکنی کرے گی بلکہ ماضی کی حکومتوں کی طرف سے مسلح کیے گئے ایسے گروپوں کو غیر مسلح بھی کیا جائے گا۔
XS
SM
MD
LG