رسائی کے لنکس

پاکستان کی ترقی و سلامتی کے لیے تمام ادارے پرعزم ہیں: وزیراعظم

  • ستار کاکڑ

وزیراعظم، فوج کے سربراہ اور وزیراعلیٰ بلوچستان (فائل فوٹو)

وزیراعظم، فوج کے سربراہ اور وزیراعلیٰ بلوچستان (فائل فوٹو)

ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب حالیہ دنوں میں حکومت اور فوج کے درمیان تناؤ کی قیاس آرائیاں کی جاتی رہی ہیں۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ملک کی ترقی و سلامتی کے لیے سیاسی و فوجی قیادت متفقہ اور مشترکہ طور پر کام کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

جمعرات کو بلوچستان کے علاقے گوادر کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ تمام ریاستی ادارے اور حکومت مل کر پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کریں گے اور اس پر سب میں اتفاق پایا جاتا ہے۔

"میرے دائیں جانب وزیراعلیٰ ہیں اور اس طرف چیف آف آرمی سٹاف ہیں پاکستان کی ترقی اور تعمیر کے لیے اور پاکستان کو محفوظ بنانے کے لیے اور پاکستان کو پرامن ملک بنانے کے لئے ہم سب آج ایک ہی میز پر بیٹھے ہوئے تھے اور ہم چاہتے ہیں کہ ہم مل کر پاکستان کو پاکستان کی مشکلات سے باہر ںکالیں"۔

ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب حالیہ دنوں میں حکومت اور فوج کے درمیان تناؤ کی قیاس آرائیاں کی جاتی رہی ہیں۔

وزیراعظم کے دورے کے موقع پر فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف بھی موجود تھے۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی ترقی اور یہاں امن و امان کے قیام کے لیے بھی بھرپور معاونت فراہم کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ گوادر میں جس رفتار سے ترقی ہونی چاہیے تھی وہ دیکھنے میں نہیں آئی لیکن ان کے بقول اس کے لیے وزارت ترقی و منصوبہ بندی کو سفارشات اور لائحہ عمل تیار کرنے کا کہہ دیا گیا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ گوادر کی بندرگاہ پر وہ تمام لوازمات موجود ہیں جن سے یہ بین الاقوامی سطح کی ایک فری پورٹ بن سکے۔

"گوادر کے لئے بہت وسیع منصوبے ہیں یہا ں پر ایک جدید ہوائی اڈہ ہو گا اور بندرگاہ بہت ترقی کرے گی اور یہاں پر ترقیاتی منصوبے آئیں گے اور بین الااقومی مشیروں کی خدمات حاصل کی جائیں گی اور ان کی ذریعے انشااللہ ہم ایک بہت بڑا منصوبہ بنا ئیں گے گوادر کے لیے اسی طرح جس طرح دبئی، سنگاپور اور ہانگ کانگ ہیں"۔

گوادر کی بندرگاہ پر جزوی طور پر تجارتی سرگرمیاں شروع ہو چکی ہیں اور حکام یہ کہہ چکے ہیں کہ آئندہ چند ماہ یہاں مکمل طور پر کام شروع ہو جائے گا۔

حکام اس امید کا اظہار بھی کر چکے ہیں کہ گوادر پر پوری طرح سے تجارتی سرگرمیاں شروع ہونے سے مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے سینکڑوں مواقع پیدا ہوں گے جس سے بلوچستان کی پسماندگی کو ختم کرنے میں خاصی مدد ملے گی۔
XS
SM
MD
LG