رسائی کے لنکس

توانائی کے بحران پر قابو پا لیا جائے گا: نواز شریف


وزیراعظم نواز شریف

وزیراعظم نواز شریف

نواز شریف نے کہا کہ اوچ پاور پراجیکٹ میں 30 فیصد ملازمتیں بلوچستان کے لوگوں کو دی جائیں گی اور صوبے کے احساس محرومی کو ختم کیا جائے گا۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ملک کو توانائی کی شدید قلت کا سامنا ہے جس کی وجہ سے اقتصادی ترقی بھی بری طرح متاثر ہوئی لیکن ان کے بقول آئندہ دو سے تین سالوں میں بجلی کی کمی کو پورا کر لیا جائے گا۔

جمعہ کو بلوچستان میں اوچ پاور پلانٹ کے دوسرے بجلی گھر کا افتتاح کرنے کے بعد خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 404 میگا واٹ کے اس منصوبے سے اب اوچ پاور پلانٹ کی مجموعی پیداوار 990 میگاواٹ ہو جائے گی جس سے بلوچستان میں خوشحالی اور ملک کو توانائی کے بحران سے نکلنے میں مدد ملے گی۔

"دو اسباب کی وجہ سے میں اسے غیر معمولی اہمیت کا حامل سمجھتا ہوں اولاً یہ پاور پراجیکٹ ملک میں دستیاب گیس سے چلے گا۔ یہ احساس میرے لیے بڑی تقویت کا باعث ہے کہ اس منصوبے کو جس توانائی کی ضرورت ہے وہ ہمیں کہیں باہر سے نہیں لینی، اس منصوبے کی دوسری اہمیت یہ ہے کہ یہ بلوچستان میں واقع ہے۔ بلوچستان کو ماضی میں نظر انداز کیا گیا، اب ایسا نہیں ہو گا۔"

پاکستان کو حالیہ برسوں میں توانائی کے شدید بحران کا سامنا رہا ہے، گرمیوں میں بجلی اور سردیوں میں قدرتی گیس کی قلت کی وجہ سے نہ صرف گھریلو صارفین بلکہ صنعتی اور کاروباری شعبہ بھی بری طرح متاثر ہوا۔

نواز شریف نے گزشتہ سال اقتدار سنبھالنے کے بعد توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے اقدامات کو اپنی ترجیحات قرار دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ بجلی کی طلب کو پورا کرنے کے لیے حکومت طویل المدتی منصوبوں بشمول سستے اور متبادل ذرائع سے بھی بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔

قدرتی وسائل سے مالامال ہونے کے باوجود صوبہ بلوچستان تعلیم، صحت اور روزگار کے مسائل کے علاوہ بنیادی ڈھانچے کے نہ ہونے سے یہ ملک کے دیگر علاقوں کی نسبت پسماندہ ترین صوبہ ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس اوچ پاور پراجیکٹ میں 30 فیصد ملازمتیں بلوچستان کے لوگوں کو دی جائیں گی اور صوبے کو مرکزی دھارے میں لا کر اس کے احساس محرومی کو ختم کیا جائے گا۔

"ملک کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ تمام علاقوں کو ساتھ لے کر چلا جائے اور لوگوں کو آگے بڑھنے کے لیے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں۔ ۔ ۔ امتیاز، محرومی اور شکایات کو جنم دیتا ہے اب امتیاز اور محرومی دونوں کا ازالہ ہوگا۔"

وزیراعظم نے ایک روز قبل گوادر کا بھی دورہ کیا تھا اور یہاں کی بندرگاہ کو بین الاقوامی معیار کی فری پورٹ بنانے کے لیے سفارشات مرتب کرنے کا کہتے ہوئے نواز شریف نے صوبے کے عوام کو ترقی کے دھارے میں شامل کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ملک میں توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے نئے آبی ذخائر کی تعمیر کے ساتھ ساتھ اس کی ترسیل کے نظام کو بھی موثر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ بجلی اور گیس کی چوری اور ضیاع سے بچا جا سکے۔

پاکستان کو توانائی کے بحران سے نکالنے کے لیے امریکہ بھی یہاں متعدد منصوبوں میں معاونت کر رہا ہے جس میں ڈیموں کی تعمیر، بجلی گھروں کی استعداد کار بڑھانے اور عملے کو تربیت فراہم کرنا بھی شامل ہے۔
XS
SM
MD
LG