رسائی کے لنکس

کوئٹہ: خودکش دھماکے وکلاء کی ہلاکت کے بعد عدالتی کارروائی کا عمل متاثر


فائل فوٹو

فائل فوٹو

وائس آف امر یکہ سے خصوصی گفتگو میں سُپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر سینیٹر کامران مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ کوئٹہ میں مارے جانے والے وکلاء میں سے بعض ایسے بھی تھے جو اپنے خاندانوں کے واحد کفیل تھے۔

پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں 8 اگست کو سول اسپتال میں خود کش بم حملے میں ہلاک ہونے والے 70 سے زائد افراد میں وکلا کی اکثریت تھی۔

خودکش بم حملے میں مارے جانے والوں میں صوبے کے سینیئر وکیل شامل تھے۔ دو ہفتوں سے زائد کا وقت گزرنے کے باوجود کوئٹہ کی عدالتیں تقریباً سنسان پڑی ہیں۔

بلوچستان کے وکلاء کی نمائندہ تنظیموں نے خودکش حملہ آور کے نیٹ ورک کا سراغ لگانے اور اُن کے سہولت کاروں کی گرفتاری تک ہائیکورٹ اور تمام ذیلی عدالتوں کا غیر معینہ مدت تک کے لیے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا جو تا حال جاری ہے۔

وائس آف امر یکہ سے خصوصی گفتگو میں سُپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر سینیٹر کامران مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ کوئٹہ میں مارے جانے والے وکلاء میں سے بعض ایسے بھی تھے جو اپنے خاندانوں کے واحد کفیل تھے۔

’’ایسے خاندان بھی ہیں۔۔۔ میرا خیال ہے کہ اُن کا گزارہ بھی ممکن نہیں تھا، آپ جب اُن کے گھروں میں جاتے ہیں تو آپ ایک اور کرب سے گزرتے ہیں کہ اب ان کے گھر کے چولہے کیسے جلیں گے ۔۔۔۔ تو دُکھ ہوتا ہے اب باقی لوگوں کی بقا کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے، تو ایک اور معاشرتی المیہ جنم لے رہا ہے۔‘‘

کامران مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ خود کش حملے کے زخمیوں کے لیے اب تک حکومت نے امدادی رقم دینے کے حوالے سے کوئی قدم نہیں اُٹھایا اور اُن کے بقول بلوچستان ہائیکورٹ یا سپریم کورٹ کو اس معاملے کا از خود نوٹس لینا چاہیئے تھا۔

’’سُپریم کورٹ بھی اس معاملے کو ٹیک اپ کر سکتی تھی میں مطالبہ کروں گا اور سُپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے کہوں گا کہ اس معاملے کو ابھی تک ٹیک اپ کر لینا چاہیے تھا۔‘‘

سپریم کورٹ کے سابق صدر نے کہا کہ وکلا کو تاحال خودکش حملے سے متعلق ہونے والی تفتیش سے آگاہ نہیں کیا گیا ہے اور اُنھیں خدشہ ہے کہ کہیں یہ معاملہ بھی ماضی کے کئی دیگر واقعات کی طرح فائلوں میں نا دب جائے۔

XS
SM
MD
LG