رسائی کے لنکس

کوئٹہ میں فائرنگ سے ہزارہ شیعہ برادری کے دو افراد قتل


فائل فوٹو

فائل فوٹو

پولیس حکام کے مطابق کوئٹہ شہر سے ہزار گنجی میں فروٹ اور سبزی منڈی جانے والے شیعہ ہزارہ برادری کے دو جوان رکشہ میں جا رہے تھے کہ سر یاب روڈ ڈگر ی کالج کے قریب موٹر سائیکل پر سوار دو نا معلوم مسلح افراد نے رکشہ پر خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ کی۔

پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں پیر کو شیعہ ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے دو افراد کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا۔

پولیس کے مطابق حملہ آور فائرنگ کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے جن کی تلاش کے لیے علاقے کی ناکہ بندی کر کے کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

پولیس حکام کے مطابق کوئٹہ شہر سے ہزار گنجی میں فروٹ اور سبزی منڈی جانے والے شیعہ ہزارہ برادری کے دو جوان رکشہ میں جا رہے تھے کہ سر یاب روڈ ڈگر ی کالج کے قریب موٹر سائیکل پر سوار دو نا معلوم مسلح افراد نے رکشہ پر خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ کی۔

جس سے ہزارہ شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے دونوں نوجوان موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ مارے جانے والے دونوں افراد کی شناخت غلام نبی اور محمد نبی کے نام سے ہوئی ہے اور وہ شیعہ ہزارہ برادری کے اکثریتی علاقے علمدار روڈ کے رہائشی ہیں۔

اس واقعہ کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ایک دھڑے جماعت الاحرار نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ بظاہر یہ ہدف بنا کر قتل کرنے کا واقعہ ہے اور اس میں ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

بلوچستان حکومت کے ترجمان انوار الحق کاکڑ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ماضی کی نسبت کوئٹہ میں صورت حال بہتر ہوئی ہے اور اُن کے بقول شہر میں محفوظ بنانے کے لیے ’سیف سٹی‘ منصوبے پر بھی کام جاری ہے۔

شیعہ ہزارہ برادری کے لوگوں کو اس سے قبل بھی متعدد بار خود کش بم حملوں کے علاوہ ہدف بنا کر قتل کرنے کے واقعات کا سامنا رہا۔

ہزارہ تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ ایسے حملوں میں اب تک ہزارہ برادری کے لگ بھگ ایک ہزار افراد کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ شیعہ ہزارہ برادری پر ہونے والے مہلک حملوں کے بعد اُن کے دو رہائشی علاقوں علمدار اور ہزارہ ٹاﺅن کی حفاظت بڑھا دی گئی تھی اور اب ان علاقوں کی حفاظت کے لیے فرنٹیر کور کے اہلکار تعینات ہیں۔

ایک روز قبل کوئٹہ کے سریاب روڈ پر ہی لیویز کے ایک اہلکار کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔ حکام کے مطابق لیویز اہلکار اپنی ڈیوٹی ختم کر کے گھر جا رہا تھا جب اُسے نشانہ بنایا گیا۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ایک دھڑے جماعت الاحرار نے لیویز اہلکار پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG