رسائی کے لنکس

بلوچستان: ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی بڑھتی تعداد باعث تشویش


فائل فوٹو
فائل فوٹو

ڈاکٹر نور قاضی کے مطابق اس وقت کوئٹہ کے ساتھ ساتھ ابتدائی طور پر لسبیلہ گڈانی، نصیر آباد، ژوب شیرانی اور قلعہ سیف اللہ میں بھی جائزہ لینے کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔

پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں جان لیوا بیماری ایڈز کے وائرس ایچ آئی وی سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے محکمہ صحت کے حکام نے مختلف علاقوں میں لوگوں کے خون کا تجزیہ کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔

صوبے میں ایڈز سے متعلق قائم دو مراکز میں 537 مریض رجسٹرڈ ہیں جب کہ ماہرین کے بقول اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

ایڈز کنٹرول پروگرام بلوچستان کے سربراہ ڈاکٹر نور قاضی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران کوئٹہ اور تربت میں قائم مراکز میں جب مختلف بیماریوں کے لیے مریضوں کے خون کے تجزیے کیے گئے تو اس سے پتا چلا کہ یہاں قابل ذکر تعداد میں لوگ ایچ آئی وی سے متاثر ہیں۔

"کو ئٹہ میں 226 مر یضوں کا علاج ہو رہا ہے اور تربت میں 68 کا علاج شروع ہے۔ کو ئٹہ میں 173 مرد ہیں، 44 خواتین ہیں 9 بچے ہیں اور اسی طرح تربت میں47 مرد ہیں 18 خواتین ہیں اور 3 بچے ہیں، مز ید کو ئٹہ کے اندر ہم سروے کرنے جارہے ہیں کام شروع ہوچکا ہے میرے اندازے کے مطابق یہ تعداد بڑھتی جارہی ہے۔"

انھوں نے بتایا کہ صوبے میں شعبہ صحت کے لیے مختص کیے گئے فنڈز میں اضافے کے بعد مختلف اسپتالوں میں خون کے تجزیے کرنے کے لیے مشینیں لگائی گئی تھیں اور جب یرقان اور دیگر بیماریوں کے لیے مریضوں سے خون کا نمونہ لیا جاتا ہے تو اسے ایڈز کے تجزیے کے لیے بھی بھیجا جاتا ہے جس سے یہ معلوم ہوا کہ صوبے میں ایچ آئی وی سے متاثرہ لوگ بھی موجود ہیں۔

ڈاکٹر نور قاضی کے مطابق اس وقت کوئٹہ کے ساتھ ساتھ ابتدائی طور پر لسبیلہ گڈانی، نصیر آباد، ژوب شیرانی اور قلعہ سیف اللہ میں بھی جائزہ لینے کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔

ماہرین ایڈز کے پھیلاؤ کی سب سے بڑی وجہ اس بارے میں لوگوں میں پائے جانے والے غلط تصورات کو قرار دیتے ہیں جن کی وجہ سے ایچ آئی وی سے متاثرہ مریض اپنی بیماری کو چھپاتا ہے اور نا دانستہ طور پر وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بنتا ہے۔

ڈاکٹر نور قاضی کہتے ہیں کہ " ایڈز کے بارے میں کچھ اس طرح سے رویے ہیں لوگوں کے کہ اگر (مریض) کسی کو بتائے تو وہ ایڈز کو خدا نا خواستہ کسی بدکاری وغیرہ کے حوالے سے جاننے لگتے ہیں تو اس حوالے سے وہ اپنا مر ض چھپاتے ہیں اور اسی چھپانے کی وجہ سے وہ مر ض پھیلتا جاتا ہے نہ وہ اپنے ریزر کے بارے میں احتیاط کریں گے کسی اور کو روکیں گے کیونکہ وہ کہتے ہوئے شرماتے ہیں یوں وہ اپنی شریک حیات کو بھی نہیں بول سکتے اسی وجہ سے وہ اپنی شریک حیات کو بھی (وائرس) منتقل کرے گا جو بچے پیدا ہوں گے اُن کو بھی منتقل ہوگا۔"

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں اس مرض سے متعلق آگاہی مہم بھی شروع کر دی گئی ہے جب کہ حکومت اس مرض کی تشخیص اور ادویات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ایڈز سے متاثرہ افراد کی مالی معاونت بشمول ان کے بچوں کی اسکول فیس بھی ادا کرے گی۔

XS
SM
MD
LG