رسائی کے لنکس

بلوچستان: امام بارگاہ پر خودکش حملے کے بعد سیکورٹی سخت

  • ستار کاکڑ

فائل فوٹو

فائل فوٹو

بلوچستان میں رواں ہفتے کے دوران یہ دوسرا بم دھماکا تھا، اس سے قبل بدھ کو صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ایک مسافر بس میں دھماکے سے 11 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان کے ضلع بولان کی تحصیل بھاگ میں جمعرات کی شام ایک امام بارگاہ پر خودکش بم دھماکے کے بعد صوبے بھر میں عاشور کے موقع پر سکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے۔

خودکش بم دھماکے میں کم از کم 10 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔

یہ دھماکا مغرب کی نماز کے دوران کیا گیا اور ہلاک و زخمی ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

بلوچستان میں رواں ہفتے کے دوران یہ دوسرا بم دھماکا تھا، اس سے قبل بدھ کو صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ایک مسافر بس میں دھماکے سے 11 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

بلوچستان میں محرم کے دوران بعض کالعدم مذہبی عسکری تنظیموں کی طرف سے متعدد بار ہلاکت خیز حملے ہو چکے ہیں، جس کے باعث رواں ماہ بھی عاشور کے موقع پر شیعہ برادری میں سلامتی کے حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے۔

تاہم صوبائی حکومت نے محرم کے پہلے عشرے کے دوران سیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے ہیں جس پر بظاہر شیعہ برادری نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

شیعہ کانفرنس بلوچستان کے صدر داؤد آغا نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ملک اس وقت حالت جنگ میں ہے لیکن اس کے باوجود بلوچستان کی حکومت نے ساتویں محرم کے جلوس کے لیے اُن کے بقول سیکورٹی کے بہت اچھے انتظامات کیے تھے اور انہیں اُمید ہے کہ عاشورہ کے جلوس کے لیے بھی اسی طرح کے مناسب انتظامات کئے جائیں گے۔

’’ہم بھی کوشش کریں گے کہ منظم انداز سے جلوس نکالیں اور دُعا کریں گے کہ اللہ دہشت گردی کے اس شر سے سارے پاکستان کے جلوسوں کو سارے پاکستان کے لوگوں کوحفظ وامان میں رکھے تاکہ یہ لوگ اپنا مذہبی فریضہ احسن طریقے سے انجام دے سکیں۔‘‘

آغا داﺅ صوبے نے بعض علاقوں میں ماہ محرم کے جلوسوں پر پابندی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مقامی انتظامیہ نے صوبے کے تین شہروں ڈھاڈر، ڈیرہ اللہ یار اور جعفر آباد میں شیعہ برادری کے لوگوں کو جلوس نکالنے کی اجازت نہیں دی۔

’’ہم سمجھتے ہیں کہ یہ تو عزاداری کا جلوس ہے، انتہائی چھوٹے راستے ہوتے ہیں ان کے، لیکن میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ وہاں کی جو انتظامیہ ہے وہ کیوں (جلوس) نہیں نکالنے دے رہی۔‘‘

دوسری طرف صوبائی محکمہ داخلہ کے حکام کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے 15 اضلاع میں محرم کے حوالے سے اجتماعات منعقد ہوتے ہیں اور جلوس نکالے جاتے ہیں۔ ان کے بقول کسی بھی ضلع یا شہر میں جلوس نکالنے پر پابندی کی اطلاعات دُرست نہیں۔

صوبائی حکومت نے محرم کے حوالے سے صوبے کے چار اضلاع کو انتہائی حساس قرار دیا ہے جن میں کوئٹہ، کچھی، جعفرآباد اور خضدار شامل ہیں۔ محکمہ داخلہ کے حکام نے کہا کہ جلوسوں کے تحفظ کے لیے پورے صوبے میں 10 ہزار پولیس، لیویز اور بلوچستان کانسٹیبلری کے اہلکاروں کے ساتھ فرنٹئیر کور کے 68 دستے تعینات کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ فوج کے دستے ضروت پڑنے پر تیار رہیں گے۔

صوبائی حکومت ہیلی کاپٹر کے ذریعے جلوس کی فضائی نگران کرے گی۔ اس کے علاوہ دفعہ 144 کا نفاذ کرکے موٹر سائیکل پر ڈبل سوار پر پابندی بھی عائد کردی گئی ہے۔

XS
SM
MD
LG