رسائی کے لنکس

طاقت کے استعمال سے بلوچستان میں مسائل مزید بڑھنے کا خدشہ


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

ڈیرہ بگٹی میں سکیورٹی فورسز نے ایک تازہ کارروائی میں دس مشتبہ عسکریت پسندوں کو ہلاک اور ان کے تین ٹھکانے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

بلوچستان میں حالیہ مہینوں کے دوران ماضی کی نسبت حالات پرامن رہے ہیں لیکن اس دوران بھی عسکریت پسند مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز اور سرکاری املاک و تنصیبات کو نشانہ بناتے رہے۔

اسی بنا پر حالیہ دنوں میں مشتبہ عسکریت پسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز نے ڈیرہ بگٹی اور اس سے ملحقہ علاقوں میں کارروائیاں شروع کیں اور ایسی ہی ایک تازہ کارروائی میں دس مشتبہ عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا۔

اتوار کو فرنٹیئر کور کی طرف سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ ڈیرہ بگٹی کے علاقے گندیاری میں کالعدم بلوچ ریپبلکن آرمی کے خلاف سرچ آپریشن جاری تھا کہ مشتبہ عسکریت پسندوں نے فورسز کے اہلکاروں پر فائرنگ شروع کردی۔

جوابی کارروائی میں دس شدت پسندوں کو ہلاک اور ان کے تین کیمپ تباہ کردیے گئے۔ حکام کے مطابق مذکورہ عسکریت پسند، سندھ، پنجاب اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں گیس پائپ لائنوں اور مسافر ٹرینوں پر حملوں میں ملوث تھے۔

دو روز قبل ہی صوبائی وزیرداخلہ نے ذرائع ابلاغ کو بتایا تھا کہ ڈیرہ بگٹی کے علاقے میں سکیورٹی فورسز نے کارروائی کرکے کم ازکم 30 مشتبہ شدت پسندوں کو ہلاک کردیا۔ اپریل میں ضلع قلات میں بھی ایک ایسی کارروائی میں 30 عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

تقریباً ایک دہائی سے پاکستان کا یہ جنوب مغربی صوبہ شورش پسندی کا شکار چلا آرہا ہے کہ ماضی کی حکومت کی طرح موجودہ حکومت نے بھی بلوچستان میں امن و امان بحال کرنے کے لیے ناراض بلوچ رہنماؤں سے مذاکرات کرنے کا فیصلہ تو کیا لیکن اس بارے میں کوئی ٹھوس پیش رفت سامنے نہیں آسکی۔

حالیہ دنوں میں سکیورٹی فورسز کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کو بعض مبصرین صوبے میں دیر پا امن کے لیے حوصلہ افزا اقدام خیال نہیں کر رہے۔

معروف تجزیہ کار انور ساجدی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ دنیا میں بڑے بڑے مسائل بات چیت کے ذریعے حل کیے جاتے ہیں لیکن بلوچستان کی موجودہ صورتحال میں یہ خدشہ ہے کہ طاقت کے استعمال سے تشدد بڑھے گا اور اس سے عوام مزید مشکلات کا شکار ہوں گے۔

"یہاں جو مشکل ہے کہ جو لوگ پہاڑوں پر ہیں جو ناراض ہیں وہ بھی کہتے ہیں ہمیں بات چیت پر یقین نہیں ہمیں اعتماد نہیں، پھر حکومت کی طرف سے بھی کوئی خاص کوشش نظر نہیں آ رہی۔ آئندہ کچھ عرصے میں طاقت کے استعمال کا عنصر مزید بڑھ جائے گا، حکومت طاقت کے ذریعے اپنی عملداری قائم کرنا چاہے گی اور ہو سکتا ہے پھر تشدد دونوں طرف سے بڑھے اور اس صوبے کے لوگ مزید مشکلات میں آجائیں۔"

صوبائی حکومت میں شامل عہدیدار یہ کہتے آئے ہیں کہ وہ بات چیت کے ذریعے مسئلے کا حل چاہتے ہیں لیکن سکیورٹی فورسز پر حملوں کی صورت میں بھرپور جوابی کارروائی بھی کی جائے گی۔
XS
SM
MD
LG