رسائی کے لنکس

بلوچستان: کالعدم تنظیم کے کم ازکم نو 'دہشت گرد' ہلاک


فائل فوٹو

فائل فوٹو

سرکاری میڈیا نے بلوچستان کے محکمہ داخلہ کے ایک ترجمان کے حوالے سے بتایا کہ یہ ہلاکتیں آواران کے علاقے میں فرنٹیئر کور کی تلاشی کی کارروائیوں کے دوران ہوئیں۔

پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں حکام نے سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ کے اہم کمانڈروں سمیت کم ازکم نو مشتبہ عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

سرکاری میڈیا نے بلوچستان کے محکمہ داخلہ کے ایک ترجمان کے حوالے سے بتایا کہ یہ ہلاکتیں آواران کے علاقے میں فرنٹیئر کور کی تلاشی کی کارروائیوں کے دوران ہوئیں۔

مرنے والوں کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ مشتبہ عسکریت پسند تربت اور مستونگ میں ہونے والی دہشت گرد کارروائی میں ملوث تھے۔

سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری ہتھیار اور بارودی مواد بھی برآمد کیا ہے۔

شورش پسندی کے شکار بلوچستان میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران تشدد کی کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا جس میں کالعدم علیحدگی پسند اور عسکری تنظیمیں سرکاری اہلکاروں، املاک اور تنصیبات کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔

اس کے علاوہ حالیہ برسوں میں بلوچستان میں دیگر صوبوں سے آ کر آباد ہونے والوں یا روزگار کے سلسلے میں مقیم افراد کو بھی ہدف بنا کر قتل کیا جاتا رہا ہے۔

تاہم موجودہ حکومت کی طرف سے کیے گئے مختلف اقدام اور سکیورٹی فورسز کی بھرپور کارروائیوں کی وجہ سے ماضی کی نسبت ہلاکت خیز واقعات کے تسلسل میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔

رواں سال ہی بعض علیحدگی پسند تنظیموں کے درجنوں لوگوں نے ہتھیار ڈال کر ریاست کی عملداری کا حلف بھی اٹھایا۔

صوبائی حکومت قیام امن کے لیے ناراض بلوچ رہنماؤں کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے بھی کوشاں ہے لیکن تاحال اس ضمن میں کوئی اہم پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے۔

XS
SM
MD
LG