رسائی کے لنکس

بلوچستان: خواتین کے تحفظ کے لیے ’سموراج‘ تحریک کا آغاز


تحریک کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد بلوچستان میں صنفی امتیاز کے خاتمے کی جدوجہد کرنا ہے اور’تحریک‘ کا کسی سیاسی یا غیر سرکاری تنظیم سے کوئی واسطہ نہیں۔

بلوچستان میں صوبائی سطح پر پہلی مرتبہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے غیر سرکاری سطح پر ایک تحریک شروع کی گئی ہے، جس کی روح رواں بھی خود خواتین ہی ہوں گی۔

اس تحریک کو سموراج کا نام دیا گیا ہے، بلوچستان کی ثقافت میں سمو نامی ایک خاتون معروف لوک کردار ہیں اور اسی مناسبت سے اس تحریک کو سمو راج کا نام دیا گیا۔

تحریک کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد بلوچستان میں صنفی امتیاز کے خاتمے کی جدوجہد کرنا ہے اور’تحریک‘ کا کسی سیاسی یا غیر سرکاری تنظیم سے کوئی واسطہ نہیں۔

نورین لہڑی، سمو راج تحریک کی بانی اراکین میں سے ہیں اُن کا ماننا ہے کہ صوبے کی خواتین نے خود آگے بڑھ کر اپنے حقوق کی جدوجہد کا بیڑا اٹھانے کی کوشش کی ہے۔

’’سموراج موومنٹ خواتین کی کاوش ہے۔۔۔ ہماری خواتین نے سوچا کہ ہم بغیر کسی سرکاری یا نیم سرکاری اداروں کی معاونت کے اپنے طور پر ایک ایسی تحریک کو متحرک کریں ۔۔۔ اس کا مقصد مست توکلئی کے فلسفے کی بنیاد پر ہے کہ آپ کسی کے ساتھ بھی ناانصافی نہ کرو چاہے وہ عورت ہو یا کوئی بھی انسان ہو اقلیت ہو آپ نے سب کا احترام کرنا ہے تو یہ ایک جذبہ ہے۔‘‘

سموراج تحریک کے اغراض و مقاصد میں صوبائی سطح پر خواتین کے حقوق کی تحفظ کے لیے قانون سازی کے لیے جدوجہد بھی شامل ہے۔

ڈاکٹر شاہ محمد مری ایک مصنف ہیں، اُن کا کہنا ہے کہ اس خطے کی خواتین کی جدوجہد کی تاریخ بہت پرانی ہے۔

’’یہ بہت سارے نیک شریف انسانوں کا خواب تھا ۔۔ یہ پکی بات ہے کہ آج شمع جل گئی ہے اس بے آگے جانا ہے سموراج کی تحریک کا بنیادی نقطہ یہ ہے کہ یہ مردوں کے ساتھ چلے گی یہ مردوں کے خلاف جنگ نہیں کرے گی مردوں سے کوئی میچ نہیں کرے گے بلکہ ہم خیال مردوں کو ساتھ ملا کر اپنے حقوق کے لیے آگے بڑھے گی‘‘۔

پاکستان کی طرح بلوچستان کی خواتین کو بھی بہت سے مسائل کا سامنا رہا تاہم حالیہ برسوں میں اس ضمن میں بعض نئے قانون بھی بنائے گئے اور پہلی مرتبہ ایک خاتون صوبائی اسمبلی اسپیکر بھی منتخب ہوئی، جس سے یہ اُمید ہو چلی ہے کہ حقوق نسواں کے لیے جاری کوششوں کو تقویت ملے گی۔

XS
SM
MD
LG