رسائی کے لنکس

ناراض بلوچ ہتھیار رکھ کر امن کی راہ اختیار کریں: لیفٹیننٹ جنرل جنجوعہ

  • ستار کاکڑ

فائل فوٹو

فائل فوٹو

فوج کی سدرن کمانڈر کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ناصر خان جنجوعہ کا کہنا تھا کہ فوج بلوچستان سمیت پورے پاکستان سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے اور عوام کے درمیان پیدا کی گئی تفریق کو بھی ختم کیا جائے گا۔

پاکستان کی فوج کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے شورش پسندی سے متاثرہ صوبے بلوچستان میں عسکری کارروائیوں میں مصروف نوجوانوں پر زور دیا ہے کہ وہ ہتھیار رکھ کر امن کا راستہ اختیار کریں۔

اتوار کو سالانہ بلوچستان اسپورٹس فیسٹیول کی کوئٹہ میں ہونے والی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فوج کی سدرن کمانڈر کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ناصر خان جنجوعہ کا کہنا تھا کہ فوج بلوچستان سمیت پورے پاکستان سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے اور عوام کے درمیان پیدا کی گئی تفریق کو بھی ختم کیا جائے گا۔

ایک دہائی سے زائد عرصے سے بلوچستان میں مختلف گروپ قوم پرستی کے نام پر صوبے کے قدرتی وسائل اور اختیارات میں زیادہ حصے کے حصول کے لیے مسلح کارروائیاں کرتے آ رہے ییں جس سے قدرتی وسائی سے مالا مال یہ صوبہ شورش پسندی اور بدامنی کا شکار چلا آ رہا ہے۔

حالیہ ہفتوں میں سکیورٹی فورسز نے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کر کے درجنوں مشتبہ عسکریت پسندوں کو گرفتار کیا جب کہ مسلح کارروائیوں میں حصہ لینے والے اکثر لوگوں نے ہتھیار پھینک کر حکومت کو اپنے تعاون کا یقین دلایا ہے۔

جنرل ناصر جنجوعہ کا ہتھیار ڈالنے والے نوجوانوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انھوں نے خون کی ہولی کی بجائے امن کا راستہ اختیار کرنے کو ترجیح دی ہے۔

"میں سلام کرتا ہوں اُن نوجوانوں کو، جنہوں نے یہ تہیہ کر لیا ہے کہ وہ دنیا کی لالچ چھوڑ کر اپنی آخرت سنواریں گے کیونکہ اپنے ہی بہن بھائیوں کے خون میں رنگے ہاتھ اللہ کے رسول اور اللہ تعالی کے سامنے کس منہ سے کھڑ ے ہوں گے کسی کے بہکاوے میں آکر چند پیسوں کی خاطر کسی کو بھی تکلیف نہیں پہنچائیں گے۔"

تاہم اب بھی مختلف قوم پرست بلوچ رہنما اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب تک مقامی لوگوں کے ساتھ مقتدر حلقوں کی اعتماد سازی کو فروغ دینے کے لیے اقدامات نہیں کیے جائیں گے صورتحال میں واضح بہتری کے امکانات کم ہیں۔

بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اپنے تحفظات کا اظہار کچھ یوں کیا۔

"شاید ہمارے ان دوستوں کی نیتیں صاف ہوں اور وہ کچھ کرنا چاہتے ہوں لیکن اکثر سیاست دان اور دیگر لوگ ابھی تک نالاں ہیں کیونکہ جب لاشیں گرتی ہوں یا لوگوں کو گرفتار کیا جاتا ہو یا گرفتار شدگان کو بار بار التجا کرنے کے بعد بھی انھیں پابند سلاسل رکھا جائے تو یہ اس طرح کی چیزیں ہوتی ہیں۔ اس طرح کی مراعات مل جانی چاہیئں لوگوں کو تاکہ انھیں پتہ چلے کہ بلوچستان کے حالات کو ٹھیک کرنے کے لیے تمام مکتبہ فکر کے لوگ خواہش مند ہیں۔"

بلوچستان کی حکومت بھی ناراض بلوچوں کو مذاکرات کی میز پر لا کر صوبے کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتی آ رہی ہے لیکن اس میں اسے تاحال کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ہے لیکن ماضی کی نسبت امن و امان کی صورتحال میں قابل ذکر بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔

حالیہ مہینوں میں صوبے میں متعدد میلے اور کھیلوں کے مقابلوں کا اہتمام بھی کیا جا چکا ہے جسے مبصرین اس پسماندہ صوبے میں معمولات زندگی بحالی کے بارے میں ایک خوش آئندہ قدم قرار دیتے ہیں۔

اتوار سے شروع ہونے والا سالانہ اسپورٹس فیسٹیول ایک ہفتے تک جاری رہے گا جس میں ڈھائی ہزار نوجوان لڑکے اور لڑکی مختلف کھیلوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

ان میں فٹبال، کرکٹ، ہاکی، والی بال، باکسنگ، بیڈمنٹن، سمیت مختلف کھیل شامل ہیں۔ کھیلوں کے علاوہ اس دوران مختلف ثقافتی اور ادبی پروگراموں کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG