رسائی کے لنکس

بلوچستان: دو قبائل کے درمیان تصادم، 15 ہلاک

  • ستار کاکڑ

فائل فوٹو

فائل فوٹو

ضلع جھل مگسی میں ماچھی اور پیچوہا قبیلے کے درمیان ہونے والی لڑائی سے مرنے والوں میں دو بچے اور دو خواتین بھی شامل ہیں۔

جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں دو قبائل کے درمیان مسلح تصادم میں بچوں اور خواتین سمیت 15 افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے۔

مقامی حکام کے مطابق یہ واقعہ سرحدی ضلع جھل مگسی کے علاقے نغور میں پیش آیا جہاں ماچھی اور پیچوہا قبائل کے درمیان بچوں کے معمولی نوعیت کے جھگڑے کے نتیجے میں دونوں جانب کے بڑوں نے ایک دوسرے پر اندھا دھند فائرنگ کی۔

جھل مگسی کی مقامی انتظامیہ میں شامل ایک عہدیدار عابد علی مگسی نے وائس آف امریکہ کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ یہ قبائل تقریباً ایک دوسرے کے پڑوسی ہی تھے۔

"ماچھی اور پیچوہا قبائل کے بچوں میں تو تو، میں میں ہوئی جس پر معاملہ بڑھا اور پھر بڑے بھی اس میں شامل ہو گئے۔ پیچوہا قبیلے کے لوگوں نے ماچھی قبیلے کے لوگوں پر حملہ کر دیا اور ان کے 12 لوگ مار دیے۔"

انھوں نے بتایا کہ تصادم میں پیچوہا قبیلے کے تین لوگ بھی ہلاک ہوئے جب کہ مرنے والوں میں دو بچے اور دو خواتین بھی شامل ہیں۔ فائرنگ کی زد میں آکر پانچ دیگر افراد زخمی بھی ہوئے۔

لیویز حکام نے دونوں قبائل کے چند افراد کو بھی حراست میں لیا ہے جب کہ علاقے میں کشیدگی کے پیش نظر وہاں سکیورٹی اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔

بلوچستان کے اضلاع بولان، جھل مگسی، ڈیرہ بگٹی، خضدار اور دیگر علاقوں میں بھی قبائل کے درمیان ایسے ہی خونریز جھگڑے ہوتے رہتے ہیں۔ گزشتہ سال ایسے ہی جھگڑوں میں دو درجن سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ قبائل کے درمیان تنازعات کے حل کے لیے جرگہ تشکیل دے گیا ہے لیکن صوبے میں بدامنی کے بڑھتے ہوئے واقعات سمیت بعض دیگر معاملات کی وجہ سے یہ جرگہ پوری طرح سے اپنا کام نہیں کر سکا جسے فعال کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
XS
SM
MD
LG