رسائی کے لنکس

بلوچستان: جھڑپوں میں دو سکیورٹی اہلکار، سات 'عسکریت پسند' ہلاک

  • ستار کاکڑ

فائل فوٹو

فائل فوٹو

ایف سی کے ترجمان کے مطابق یہ کمانڈر علاقے میں مبینہ طور پر سکیورٹی فورسز پر حملوں، اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری کی سنگین وارداتوں میں ملوث تھا۔

پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں عسکریت پسندوں کے خلاف جاری کارروائیوں کے دوران سکیورٹی فورسز کے دو اہلکار اور سات مشتبہ شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔

کوئٹہ میں فرنٹیئرکور بلوچستان کے ایک ترجمان کی طرف سے ایک تحریری پیغام میں بتایا گیا کہ ساحلی ضلع تربت کے علاقے بل نگور میں شرپسندوں کی موجود کی اطلاع پر منگل کی شام کارروائی شروع کی گئی تھی جس میں تین مشتبہ عسکریت پسند مارے گئے۔

بدھ کو اسی ضلع کے ایک اور علاقے میں ہونے والی مسلح جھڑپ میں مزید تین عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا جب کہ دو سکیورٹی اہلکار بھی اس میں مارے گئے۔

ادھر جنوب مشرقی ضلع قلات کے علاقے بنچہ سوراب میں بھی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر سکیورٹی فورسز نے کارروائی کی جس میں مبینہ طور پر کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ کا ایک کمانڈر مارا گیا۔

ایف سی کے ترجمان کے مطابق یہ کمانڈر علاقے میں مبینہ طور پر سکیورٹی فورسز پر حملوں، اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری کی سنگین وارداتوں میں ملوث تھا۔

بلوچستان کے جنوب مغربی ساحلی اضلاع گوادر، تربت، پنجگور اور آواران میں ایک عرصے سے کالعدم بلوچ عسکری تنظیموں کی کارروائیاں جاری ہیں اور یہ شدت پسند سکیورٹی فورسز، سرکاری املاک، دیگر صوبوں سے بلوچستان میں آکر کام کرنے یا آباد ہونے والوں پر ہلاکت خیز حملے کرتے رہے ہیں۔

سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے خلاف صوبے کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں جس میں متعدد شدت پسندوں کو ہلاک اور گرفتار کیا جا چکا ہے۔

گزشتہ ہفتے ہی ضلع آواران میں ہونے والے آپریشن میں فرنٹیئر کور نے 13 مشتبہ عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا بتایا تھا جب کہ عسکریت پسندوں نے یہاں سکیورٹی فورسز کے ایک ہیلی کاپٹر کو مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ملک سے دہشت گردی و انتہا پسندی کے مکمل خاتمے تک یہ کارروائیاں جاری رہیں گی۔

XS
SM
MD
LG