رسائی کے لنکس

موسمیاتی تبدیلی سے بلوچستان شدید متاثر

  • ستار کاکڑ

فائل فوٹو

فائل فوٹو

ماہرین کا کہنا ہے کہ زیر زمین پانی کی سطح کو اوپر نہیں لایا گیا تو آئندہ چند سالوں میں وادی کوئٹہ اور دیگر اضلاع کے لوگوں کو یہ علاقہ چھوڑ کر کسی دوسرے علاقے میں منتقل ہونا پڑے گا۔

بلوچستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بارشیں کم ہو گئی ہیں اور لوگ زیر زمین پانی پر انحصار کر رہے ہیں جس سے صوبے میں پانی کے ذخائر تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔

پاکستان کے جنوب مغربی صوبے کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق 1920 تک صوبے کے مختلف علاقوں میں سالانہ 375 ملی میٹر بارش ہوتی تھی لیکن اب سالانہ بارش کم ہو کر صرف 140 ملی میٹر تک رہ گئی ہے جس کی وجہ سے صوبے کے تمام چشمے اور کاریز مکمل طور پرخشک ہو چکے ہیں اور لوگ ایک ہزار فٹ گہرے زیرزمین پانی کے ذخائر استعمال کر رہے ہیں۔

صوبے کے 15 اضلاع میں مون سون کی بارشیں ہوتی ہیں جبکہ دیگر 17 اضلاع کے لوگ سال میں کبھی کبھی ہونے والی بارشوں پر گزارہ کرتے ہیں جو عالمی سطح پر رونما ہونے والی مو سمیاتی تبدیلیوں کے بعد بہت کم ہو گئی ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے حکومت بلوچستان کے محکمہ پبلک ہیلتھ انجینیئرنگ میں ماہر ارضیات عبدالرزاق خلجی کا کہنا ہے کہ کم بارشیں ہونے کی وجہ سے صوبہ اس وقت خشک سالی کا شکار ہے۔

غیر سرکاری اندازوں کے مطابق صوبے بھر میں لگ بھگ 50 ہزار قانونی اور غیر قانونی ٹیوب ویل لگے ہوئے ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر بڑی مقدار میں پانی نکال رہے ہیں جس کیےباعث زیر زمین پانی کی سطح تیزی سے گر رہی ہے۔

عبدالرزاق خلجی کا کہنا تھا کہ زمین سے ہم بہت زیادہ پانی نکال رہے ہیں مگر زمینی ذخائر میں دوبارہ پانی نہیں بھر رہا۔

’’صرف کوئٹہ کے علاقے میں دو ہزار سے زیادہ ٹیوب ویل لگے ہوئے ہیں۔ اسی طرح خضدار اور قلات میں۔ پشین لورا بیسن جس کو ہم بولتے ہیں یہ انتہائی زیادہ متاثر ہوا ہے اس خشک سالی سے اور اس علاقے کے لوگوں کو پینے کا پانی بھی میسر نہیں۔‘‘

قدرتی وسائل سے مالامال اس صوبے کے 32 اضلاع میں سے صرف دو اضلاع کے لوگوں کا انحصار دریائے سندھ کے پانی پر ہے جبکہ 30 اضلاع کے لوگوں کا گزر بسر بارانی یا زیر زمین پانی پر ہے۔

عبدالرزاق خلجی کا کہنا ہے کہ زیر زمین پانی کی سطح کو اوپر لانے کے لئے صوبائی حکومت نے مختلف منصوبوں پر کام کا آغاز کردیا ہے جن میں کوئٹہ کے قریبی علاقوں میں ڈیموں کی تعمیر شامل ہے۔

تاہم اُن کا کہنا ہے کہ صرف ڈیموں کی تعمیر سے زیر زمین پانی کی سطح کو اوپر نہیں لایا جاسکتا بلکہ اس کے ساتھ دیگر منصوبوں پر بھی کام کرنا ہو گا۔

’’اس لیے چاہیئے یہ کہ حکومت زیر زمین پانی کو دوبارہ بھرنے لیے ایک بہت وسیع پروگرام شروع کرے تاکہ ہم ہر برساتی نالے پر یا پہاڑ کے دامن میں زیر زمین پانی کے ذخائر دوبارہ بھرنے کے انتظامات کریں تاکہ ہم ہر بارش پر کچھ نہ کچھ پانی زیر زمین پانی کے نظام کو دے سکیں۔‘‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ زیر زمین پانی کی سطح کو اوپر نہیں لایا گیا تو آئندہ چند سالوں میں وادی کوئٹہ اور دیگر اضلاع کے لوگوں کو یہ علاقہ چھوڑ کر کسی دوسرے علاقے میں منتقل ہونا پڑے گا۔

XS
SM
MD
LG