رسائی کے لنکس

ناراض بلوچوں سے رابطے پر فوج اور وفاق کی حمایت حاصل ہے: حاصل بزنجو


حاصل بزنجو کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ بلوچستان کی حکومت کی طرف سے ایک سرکاری وفد خان آف قلات سے ملنے لندن پہنچا ہے۔

بلوچستان کی حکومت کی طرف سے مذاکرات کے ذریعے شدت پسندی کے خاتمے اور ناراض بلوچ رہنماؤں کی وطن واپسی کے لیے کی جانے والی کوششوں میں تیزی آئی ہے اور اسی سلسلے میں ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی لندن گیا ہے۔

صوبے میں برسراقتدار جماعت ’نیشنل پارٹی‘ کے سینیئر رہنما سینیٹر میر حاصل خان بزنجو نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ حکومت مخلتف سطحوں پر عسکریت پسندوں سے بات چیت کر رہی ہے۔

اُن کے بقول صوبائی حکومت کو امن کی ان کوششوں میں فوج اور وفاقی حکومت کی مکمل تائید حاصل ہے۔

’’جب سے ہم حکومت میں آئے تو ہمارا اپنا سب سے (بڑا) ہدف یہ تھا کہ ہم ان عسکریت پسندوں سے مختلف سطحوں پر بات چیت کریں۔۔۔۔ اور ظاہر ہے اس میں ہمارا وقت بہت لگا، لوگ راضی نہیں ہو رہے تھے بات چیت کے لیے تیار نہیں ہو رہے تھے مگر اب جا کر صورت حال کافی بہتر ہو گئی ہے‘‘۔

حاصل بزنجو کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ بلوچستان کی حکومت کی طرف سے ایک سرکاری وفد خان آف قلات سے ملنے لندن پہنچا ہے۔

’’ہم اب دو تین سطحوں پر بات کر رہے ہیں یہ پہلی دفعہ ہے کہ ہمارا پہلا سرکاری وفد لندن (پہنچا) ہےجو ایک دو دن میں خان آف قلات سے ملے گا اور ہماری رائے ہے کہ وہ دوسرے دوستوں سے بھی ملے جو وہاں موجود ہیں۔ اگر حیربیار سے ملاقات ہو سکتی ہے تو اس سے بھی ملاقات کرلیں۔ اور ہم انہیں اس بات پر قائل کریں کہ کوئی جنگ لامحدود نہیں ہوتی کہیں نہ کہیں آپ میز پر آ سکتے ہیں۔‘‘

سینیٹر حاصل بزنجو کا کہنا تھا کہ بلوچستان حکومت یہ کوشش کر رہی ہے کہ عسکریت پسندی ترک کرنے والوں کی مالی اعانت کے لیے بھی طریقہ کار وضع کیا جائے۔

’’ہم مقامی طور پر یہ کوشش بھی کر رہے ہیں کہ جو مقامی کمانڈرز ہیں ہم ایک ایسا پیکج دیں اور جب وہ واپس آئیں اور ان کی عزت نفس کو بھی ٹھیس نہ پہنچے۔ ان کے لیے ایک ایسا انتظام کریں کہ وہ آرام سے رہ سکیں اور ہم ان کی حفاظت کے لیے بھی منصوبہ بنا چکے ہیں وہ مہینے ڈیڑھ مہینے میں سامنے آ جائے گا۔‘‘

اُن کا کہنا تھا کہ ناراض بلوچوں کو واپس قومی دھارے میں لانے کی اس کوشش میں بلوچستان کو وفاقی حکومت اور فوج کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

’’ہمیں پہلے دفعہ جو کھل کر یقین دہانی ملی جب کل جماعتی کانفرنس (ضرب عضب) کے بارے میں ہو رہی تھی تو اس میں ہم نے (ناراض بلوچوں سے مذاکرات) کا سوال اٹھایا تھا۔ اس میں فوج کے سربراہ، آئی ایس آئی کے سربراہ، وزیراعظم پاکستان نواز شریف، پاکستان کی تمام قیادت بیٹھی ہوئی تھی تو انہوں نے کہا کہ یہ ذمہ داری ہم نیشنل پارٹی کو دیتے ہیں تو ہم نے اس پر کہا کہ نشنل پارٹی نہیں بلکہ یہ ذمہ داری بلوچستان حکومت لیتی ہے۔ ان کی طرف سے ہمیں اجازت ملی اور حتمی طور پر ہم نے فوج اور وزیر اعظم کے ساتھ بیٹھ کر اس پر بات چیت کی۔‘‘

سینیٹر میر حاصل خان بزنجو نے اس توقع کا اظہار کیا کہ ناراض بلوچ رہنماؤں اور عسکریت پسندوں کو قومی دھارے میں لانے کے لیے کی جانے والی کوششیں باور ہوں گی۔

XS
SM
MD
LG