رسائی کے لنکس

بلوچستان: آپریشن میں ’30 مشتبہ شدت پسند ہلاک‘

  • ستارکاکڑ

فائل فوٹو

فائل فوٹو

صوبائی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ آپریشن میں فرنٹیئر کور بلوچستان کے اسپیشل ونگ اور قلات اسکاﺅٹس کے اہلکار حصہ لے رہے ہیں جن کو رسد پہنچانے کے لیے ہیلی کاپٹر بھی استعمال کیے گئے۔

پاکستان کے شورش زدہ صوبے بلوچستان میں کئی ماہ تک خاموشی کے بعد پیر کو ایک بار پھر سکیورٹی فورسز اور بلوچ علحیدگی پسندوں کے درمیان مسلح جھڑپیں ہوئی ہیں جس میں ایف سی اور سکیورٹی حکام کے بقول 30 ’شدت پسند‘ مارے گئے۔

کوئٹہ میں شام کو سول سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کے دوران صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے بتایا کہ قلات اور خضدار اضلاع کے سرحد ی علاقوں پاروتھ کی پہاڑیوں میں بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کی طرف سے دس کیمپس قائم کیے گئے تھے جہاں سکیورٹی فورسز نے کارروائی کر کے اُنھیں تباہ کر دیا۔

صوبائی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ آپریشن میں فرنٹیئر کور بلوچستان کی اسپیشل ونگ اور قلات اسکاﺅٹس کے اہلکار حصہ لے رہے ہیں جن کو رسد پہنچانے کے لیے ہیلی کاپٹر بھی استعمال کیے گئے۔

اُنھوں نے بتایا کہ پیر کو ایک ہیلی کاپٹر نے انجن میں فنی خرابی کے باعث ہنگامی لینڈنگ بھی کی۔ تاہم اُن کے بقول ہیلی کاپٹر میں موجود تین رکنی عملہ مکمل طور پر محفوظ رہا۔

میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ آپریشن شام تک جاری رہے گا اور صوبے کے کسی دوسرے علاقے میں ابھی کوئی آپریشن نہیں کیا جا رہا تاہم انہوں نے کہا کہ جہاں جہاں حکومت کی عمل داری کو چیلنج کیا جائے گا وہاں بھرپور کارروائی کی جائے گی۔

صوبائی وزیر داخلہ نے حالیہ دس دنوں کے دوران ڈیرہ بگٹی میں ایک کمانڈر علی گُل کی طرف سے حکومت کی عمل داری کو تسلیم کرنے اور گزشتہ ماہ رحیم یارخان میں سوئی گیس کی فراہمی کے لیے بچھائے گئے پائپ لائنوں کو دھماکا خیز مواد سے تباہ کرنے میں ملوث مبینہ کمانڈروں کی گرفتاری کو حکومت کی ایک کامیابی قرار دیا۔

صوبائی وزیر داخلہ اور سکیورٹی حکام کے دعوﺅں کی غیر جانبدار ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی اور نہ ہی صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے ہلاک کیے جانے والے افراد کی لاشوں کے بارے میں کوئی تسلی بخش جواب دے سکے۔

وزیراعظم نواز شریف کی حکومت نے بلوچستان کے وزیراعلٰی ڈاکٹر مالک بلوچ کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کر رکھی ہے جس کو بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں سے رابطے کرنے اور صوبے کے حالات درست کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ لیکن وزیراعلیٰ کی جانب سے علیحدگی پسند بلوچ رہنماﺅں سے رابطوں کے باوجود تاحال اس بارے میں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG