رسائی کے لنکس

بلوچستان: حالات میں بہتری کی کوششوں میں تیزی


کابینہ کی خصوصی کمیٹی برائے بلوچستان کا اجلاس

کابینہ کی خصوصی کمیٹی برائے بلوچستان کا اجلاس

وزیر دفاع نوید قمر نے کہا کہ بلوچستان میں وفاقی حکومت کے بارے میں پائے جانے والے منفی تاثر کو زائل کرنے کے لیے بھرپور کوشش کی جائے گی۔

پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں امن و امان کی خراب صورت حال حالیہ دنوں میں ایک مرتبہ پھر حکومت، عدلیہ ، سیاسی جماعتوں اور عوامی حلقوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

معدنی وسائل سے مالا مال اس صوبے کے مسائل کے حل کے لیے حال ہی میں تشکیل دی گئی وفاقی کابینہ کی خصوصی کمیٹی کے بند دروازوں کے پیچھے اجلاسوں کا سلسلہ جاری ہے۔

بدھ کو ہونے والے اجلاس کے بعد کمیٹی کے سربراہ وزیر دفاع نوید قمر نے بتایا کہ سلامتی سے متعلق اداروں اور عہدیداروں نے بلوچستان کے مسائل پر اراکین کو تفصیلی بریفنگ دی ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ فی الحال کمیٹی کے اجلاسوں کی کارروائی کے بارے میں ذرائع ابلاغ کو ان کی تفصیلات جاری نا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

نوید قمر نے کہا کہ کمیٹی صوبائی حکومت، بلوچستان کے عمائدین اور انٹیلی جنس ایجنسیوں سمیت تمام متعلقہ اداروں سے معلومات اکٹھی کر کے کابینہ کے آئندہ اجلاس میں اپنی مفصل رپورٹ پیش کرے گی۔

’’پاکستان کے ایک حصے میں بدامنی اور وہاں لوگوں کے ذہنوں میں یہ خدشات ہوں کہ پاکستان یا پاکستانی حکومت ان کے مفاد میں کام نہیں کر رہی تو اس (تاثر) کو دور کرنے کے لیے ہم نے بڑھ چڑھ کے کام کرنا ہے۔‘‘

بلوچستان کمیٹی کے اراکین میں وزیر داخلہ رحمٰن ملک بھی شامل ہیں جنہوں نے بدھ کو ہونے والے اجلاس سے قبل ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں ایک بار پھر یہ الزام عائد کیا کہ صوبے میں بدامنی کے ذمہ داران میں سر فہرست بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے باغیوں نے سرحد پار افغانستان میں اپنی تربیت گاہیں قائم کر رکھی ہیں جنہیں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ جب بھی بلوچستان میں ریاست مخالف کسی ایک تخریب کار کو ہلاک کیا جاتا ہے تو سول سوسائٹی اور میڈیا ایسی خبروں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے لیکن سرکاری اہلکاروں اور عام شہریوں پر مہلک حملوں کو اجاگر نہیں کیا جاتا۔

’’جیسے آپ نے (حال ہی میں گوادر میں) کوسٹ گارڈ کے سات نوجوانوں کو شہید ہوتے دیکھا ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ یہاں سے کسی نے (ان ہلاکتوں کے معاملے) کو نہیں اٹھایا۔ میڈیا نے نہیں اٹھایا، سینیٹ میں نہیں اٹھا، کسی جگہ پاکستان میں اس کے بارے میں آرٹیکل نہیں لکھے گئے۔ کیا وہ پاکستانی سرحدوں کے محافظ نہیں تھے۔ (بلوچ لبریشن آرمی) بی ایل اے کا ایک بندہ مارا جاتا ہے تو پورے پاکستان میں ہلچل مچ جاتی ہے۔‘‘

بلوچستان میں امن و امان کی خراب صورت حال اور صوبے سے لاپتہ ہونے والے افراد کے بارے میں سپریم کورٹ میں بھی مقدمہ زیر سماعت ہے۔ عدالت عظمیٰ نے رواں ہفتے مقدمے کی ایک کارروائی میں کہا تھا کہ صوبے میں تعینات نیم فوجی ’فرنیٹیئر کور‘ چاہے تو حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔

اُدھر بدھ کے روز سینیٹ میں بھی بلوچستان میں امن و امان کے مسائل پر تین روزہ بحث کا آغاز ہوا جس میں صوبے سے تعلق رکھنے والے اراکین نے سرکاری پالسیوں پر تنقید کی۔
XS
SM
MD
LG