رسائی کے لنکس

بنگلادیش کی ٹیم کو مکمل تحفظ کی یقین دہانی


وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک (فائل فوٹو)

وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک (فائل فوٹو)

وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے کہا ہے کہ اگر بنگلادیش کی کرکٹ ٹیم نے پاکستان کا دورہ کرنے کی تجویز مان لی تو اُسےمکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

تقریباً تین سال قبل لاہور میں ایک ٹیسٹ میچ کے دوران سری لنکا کی ٹیم پردہشت گرد حملے کے بعد سے غیر ملکی کرکٹ کھلاڑی سلامتی کے خدشات کے پیش نظر پاکستان آنے سے انکاری ہیں۔

مارچ 2009 میں پیش آنے والے اس واقعہ میں چھ پاکستانی پولیس اہلکار اور سری لنکن ٹیم کا مقامی ڈرائیور ہلاک ہوگئے تھے جبکہ مہمان ٹیم کے بعض کھلاڑی بھی اس حملے میں زخمی ہوگئے تھے۔

منگل کو اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئےوزیر داخلہ نے کہا کہ وہ بدھ کے روز پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ذکا اشرف سے ملاقات کرکے اُنھیں بنگلادیشی کھلاڑیوں کے مکمل تحفظ کی یقین دہانی کرائیں گے، اگراُنھوں نے اپریل میں دورہ کرنے کی تجویز مان لی۔

انھوں نے کہا کہ وہ بنگلا دیش کی ٹیم کے لیے ایک خصوصی ٹاسک فورس بھی تشکیل دے رہے ہیں۔

گزشتہ ماہ چین کی ہاکی ٹیم نے پاکستان کا دورہ کیا تھا اور مہمان ٹیم کے خلاف کراچی، لاہور اور فیصل آباد میں میزبان ٹیم کے خلاف میچ کھیلے جس دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔

پی سی بی کے چئیرمین نے گزشتہ ماہ بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے حکام کو اس اُمید کے ساتھ پاکستان کا دورہ کرنے کی تجویز پیش کی تھی کہ یہ ملک میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی میں مدد گار ثابت ہوسکتا ہے۔ بنگلادیش کے ماہرین کا وفد بھی سلامتی کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے رواں ماہ پاکستان کا دورہ کرے گا۔

گزشتہ تین سالوں کے دوران پاکستان کی ٹیم ٹیسٹ، ایک روزہ اور ٹونٹی ٹونٹی میچوں کی میزبانی متحدہ عرب امارات میں کررہی ہے۔ 17جنوری سے انگلینڈ کے خلاف پہلا میچ بھی دبئی میں شروع ہو رہا ہے۔

رحمٰن ملک نے کہا کہ پاکستان کا دورہ کرنے والی ٹیموں کو ’’باکس سکیورٹی‘‘ فراہم کی جائے گی جس کا مطلب ہے کہ سفر کے لیے انھیں بلٹ پروف اور بم پروف گاڑیاں دی جائیں گی جن کی حفاظت پر مامور گاڑیاں بھی ایسی ہی خصوصیات کی حامل ہوں گی۔

XS
SM
MD
LG