رسائی کے لنکس

پاکستان میں قانون سازوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں سرگرم تمام غیر ریاستی عناصر کے خلاف یکساں اور سخت پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے۔

کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر کشیدگی اور بھارت کے زیرانتظام کشمیر کی صورت حال پر بحث کے لیے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر اعتزاز احسن کی طرف سے معاملے اٹھایا گیا۔

اُنھوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ ملک کے اندر غیر ریاستی عناصر پر پابندی لگانے میں ناکام ہو گئی ہے۔

’’حکومت غیر سرکاری عناصر پر پابندی لگانے کی قومی لائحہ عمل کی شق پر عمل درآمد کروانے میں مکمل طور پر ناکا م ہوئی ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ان عناصر کے خلاف موثر کارروائی نا ہونے کی وجہ سے پاکستان عالمی سطح پر تنہا ہو رہا ہے۔

پاکستان کی حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی اور قائمہ کمیٹی برائے اُمور خارجہ کے رکن رانا افضل نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اُنھوں نے کمیٹی کے اجلاس میں یہ کہا ہے کہ جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کی عوامی سرگرمیوں کو ’کنٹرول‘ کرنے کی ضرورت ہے۔

اُن کے بقول حافظ سعید کی عوامی سرگرمیوں کے سبب بھارت اور دیگر ممالک کو ’’پروپیگنڈہ‘‘ کا موقع ملتا ہے۔

جب کہ جماعت مسلم لیگ (ن) کے ایک رکن قومی اسمبلی طلال چودھری نے اعتزاز احسن کے الزام کو مستر د کرتے ہوئے کہا کہ حکومت انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وضع کیے گئے قومی لائحہ عمل پر بغیر کسی امتیاز کے کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ ’’(حکومت) آہستہ آہستہ اس جانب بڑھ رہی ہے، ہمارا بھی مقصد ہے کہ غیر ریاستی عناصر کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہیئے اور جب یہ غیر ریاستی عناصر کسی ملک میں کارروائی کرتے ہیں تو پورا پاکستان اور اس کی ایجنسیاں بد نام ہوتی ہیں ۔ ہم چیزوں میں نا صرف مرحلہ وار بہتری لا رہے ہیں بلکہ ان سے جان چھڑا رہے ہیں۔‘‘

پاکستان کے ہمسایہ ملکوں کی طرف سے پاکستانی غیر ریاستی عناصر پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ ان ملکوں میں دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

بھارت اور افغانستان پاکستان سے ان مقامی گروہوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

پاکستان تواتر کے ساتھ کہتا آیا ہے کہ وہ ہر طرح کی دہشت گردی کے خلاف ہے اور پاکستان خود بھی ایک طویل عرصے سے دہشت گردی کا شکار ہے اور اس کا خاتمہ نا صرف خطے کے ممالک بلکہ پاکستان کے اپنے مفاد میں بھی ہے۔

اُدھر پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کے ترجمان نے ایک موقر انگریزی اخبار ڈان میں شائع ہونے والی اس خبر کی ترید کی ہے کہ حکومت نے ملک کی عسکری قیادت سے کہا ہے کہ عسکریت پسند گروہوں کے خلاف موثر کارروائی ضروری ہے، بصورت دیگر پاکستان کو عالمی سطح پر پاکستان کو سفارتی تنہائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

وزیراعظم کے ترجمان کے بیان میں اخبار کی رپورٹ کو صرف قیاس آرائیوں پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ یہ گمراہ کن اور حقائق کے منافی ہے۔

اخبار میں جمعرات کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں میں وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ ملک میں عسکریت پسند گروہوں کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے ہونے والی کارروائیوں میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کی جائے گی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ وزیراعظم نواز شریف نے متعلقہ اداروں کو پٹھانکوٹ واقعے کی تحقیقات دوبارہ شروع کرنے اور ممبئی حملوں سے متعلق مقدمات کی جلد سماعت کرنے کی ہدایت کی ہے۔

وزیر اعظم کے ترجمان نے کہا کہ خبر میں معلومات کو درست پیرائے میں بیان نہیں کیا گیا ہے۔ ترجمان کے مطابق ڈان اخبار کی خبر کی معلومات کو کسی سے منسوب نہیں کیا گیا ہے جو غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ معلومات تک رسائی کا مطالبہ کرنے والوں کو خبر دینے سے متعلق بین الاقوامی معیار کو مد نطر رکھنا چاہیے۔

XS
SM
MD
LG