رسائی کے لنکس

پاکستان: سینسر بورڈ کی طرف سے دو دستاویزی فلموں پر پابندی


امنگ دی بلیوورز کی عکسبندی کا ایک منظر

امنگ دی بلیوورز کی عکسبندی کا ایک منظر

فلم فیسٹیول کے ایک منتظم اریب اظہر کہتے ہیں کہ یہ دونوں فلمیں ہر نقطہ نظر دکھا رہی ہیں اور کچھ مسائل کو اجاگر کر رہی ہیں جس سے ایک ایسا مباحثہ جنم لیتا ہے معاشرے میں جس کی اشد ضرورت ہے۔

پاکستان میں فلموں کو نشر کرنے کا اجازت نامہ دینے والے محکمے نے ایک دستاویزی فلم "امنگ دی بلیوورز" پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔

اس فلم کو اسلام آباد میں جاری دو روزہ "فیس فلم میلے" میں دکھایا جانا تھا لیکن سینسر بورڈ کی طرف سے اس پر قدغن لگا دی گئی۔

اس فلم میں بنیادی طور پر انسداد دہشت گردی کی جنگ کے تناظر میں پاکستان میں سیاسی و مذہبی بیانیوں کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ انتہا پسندی کے خلاف مقامی افراد کی کوششوں کی جھلک دکھاتی ہے۔ اس میں اسلام آباد کی لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز اور ان کے زیر انتظام چلنے والے مدارس اور وہاں درس و تدریس کا حوالہ بھی پیش کیا گیا۔

سینسر بورڈ نے اس دستاویزی فلم پر پابندی کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ اس میں دکھائے جانے والے مناظر و مکالمے پاکستان میں جاری انتہا پسندی و دہشت گردی کے خلاف جنگ کے تناظر میں اس کے منفی تاثر کو اجاگر کرتے ہیں۔

فلم کے ایک شریک ہدایتکار محمد علی نقوی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر سینسر بورڈ کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا۔ ان کے بقول یہ فلم ایک ایسے منفرد نقطہ نظر کی عکاسی کرتی ہے جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عام طور پر پیش نہیں کیا جاتا۔

فیس فلم فیسٹیول کے ایک منتظم اور معروف صوفی گلوکار اریب اظہر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ فلموں پر پابندی لگانے کے رویے کے اثرات مضر ہوتے ہیں۔

"یہ خطرناک رجحان ہے، اس کے پیچھے کوئی سوچی سمجھی سازش نہیں ہے یہ صرف خوف ہے۔۔۔اس کا مضر اثر ہوتا ہے۔"

اسی فیسٹیول میں دکھائی جانے والی ایک اور فلم "بی سیجیڈ ان کوئٹہ" کو بھی پابندی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یہ فلم کوئٹہ میں مقیم شیعہ ہزارہ برادری کی حالت زار سے متعلق ہے۔

اریب اظہر کہتے ہیں کہ یہ دونوں فلمیں ہر نقطہ نظر دکھا رہی ہیں اور کچھ مسائل کو اجاگر کر رہی ہیں جس سے ایک ایسا مباحثہ جنم لیتا ہے معاشرے میں جس کی اشد ضرورت ہے۔

"میں کہتا ہوں کہ فن کے کسی بھی نمونے کا ایجنڈا کتنا ہی برا کیوں نہ ہو آپ ضرور اس پر تنقید کریں کیوں کہ جو بھی چیز آپ پیش کرتے ہیں ہر کسی کا حق ہے کہ وہ اس پر اپنی اپنی رائے دے۔ لیکن اس پر پابندی نہ لگائیں بلکہ آپ اس سے زیادہ بہتر بنائیں تاکہ وہ (پیغام) زیادہ دور تک پہنچے۔"

یہ امر قابل ذکر ہے کہ دستاویزی فلم "امنگ دی بلیوورز" کے ہدایتکار علی نقوی کے مطابق یہ فلم بیس سے زائد ممالک میں دکھائی جا چکی ہے اور اسے متعدد ایوارڈ بھی مل چکے ہیں۔

رواں ہفتے ہی وفاقی سینسر بورڈ نے ایک اور فیچر فلم "مالک" کی نمائش پر بھی پابندی لگائی تھی جس کے خلاف اس فلم کے ہدایتکار نے عدالت عالیہ سے رجوع کر رکھا ہے۔

XS
SM
MD
LG