رسائی کے لنکس

زخمیوں میں سابق رکن صوبائی اسمبلی عدنان وزیر بھی شامل ہیں جو کہ پہلے عوامی نیشنل پارٹی میں شامل تھے لیکن آئندہ انتخابات میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے حصہ لے رہے ہیں۔

پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ میں اتوار کی صبح ایک بم دھماکے میں کم ازکم دو افراد ہلاک اور سابق رکن صوبائی اسمبلی سمیت چھ لوگ زخمی ہوگئے۔

جنوبی ضلع بنوں کے علاقے ولی نور میں یہ بم دھماکا اس وقت ہوا جب سابق رکن صوبائی اسمبلی عدنان وزیر اپنے انتخابی جلسے کے لیے جانی خیل جارہے تھے۔

دھماکے سے عدنان وزیر بھی زخمی ہوئے تاہم ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔

عدنان وزیر کا تعلق عوامی نیشنل پارٹی سے تھا لیکن آئندہ عام انتخابات میں وہ آزاد امیدوار کے طور پر حصہ لے رہے ہیں۔

اس سے قبل بھی صوبے کی سابق حکمران جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں پر شدت پسندوں کی طرف سے حملے ہوتے رہے ہیں۔ گزشتہ دسمبر میں پشاور میں ایک خودکش بم حملے میں اس جماعت کے ایک مرکزی رہنما اور سینیئر صوبائی وزیر بشیر احمد بلور ہلاک ہوگئے تھے۔

دریں اثناء تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ اگر ان کی جماعت برسر اقتدار آئی تو وہ صوبہ خیبر پختونخواہ اور ملحقہ قبائلی علاقوں میں مکمل امن قائم کریں گے۔

اتوار کو وادی سوات کے مرکزی شہر مینگورہ میں اپنی جماعت کے ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ شروع ہی سے کہتے آئے ہیں کہ شدت پسندی کے مسئلے کو طاقت سے نہیں بلکہ بات چیت سے حل کیا جاسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جو سیاسی جماعتیں پہلے ان کی اس بات پر انھیں شدت پسندوں کا حامی کہتی تھیں وہ خود بالآخر اس مسئلے کا سیاسی حل تلاش کررہی ہیں۔

قبائلی علاقوں سے ملحقہ صوبہ خیبرپختونخواہ میں حالیہ مہینوں میں تشدد کی لہر میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ایک روز قبل ضلع مردان میں پولیس وین پر خود کش حملہ آوروں کی ایک کارروائی میں ایک پولیس اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوگئے تھے جب کہ جمعہ کو پشاور میں فرنٹیئر کانسٹبلری کے سربراہ کے قافلے پر ہونے والے خودکش حملے میں کم ازکم 12 افراد مارے گئے۔

اس حملے میں ایف سی کے کمانڈنٹ محفوظ رہے تھے۔
XS
SM
MD
LG