رسائی کے لنکس

بینظیر بھٹو قتل کیس میں مشرف پر فرد جرم عائد نہ ہو سکی


پرویز مشرف (فائل فوٹو)

پرویز مشرف (فائل فوٹو)

استغاثہ کے وکیل محمد اظہر چوہدری نے سماعت کے بعد وائس آف امریکہ سے گفتگو میں دفاع کے موقف کو ’محض کیس کو طول دینے کا ایک حربہ‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کیا۔

پاکستان میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت منگل کو سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی عدم موجودگی کے باعث ان کے خلاف سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں فرد جرم عائد نہیں کر پائی۔

راولپنڈی میں سماعت کے دوران پرویز مشرف کے وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل کو شدت پسندوں کے ہاتھوں جان کا خطرہ ہے اس لیے انہیں عدالت میں پیش نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ سابق فوجی صدر کے خلاف فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی موخر کی جائے۔

استغاثہ کے وکیل محمد اظہر چوہدری نے سماعت کے بعد وائس آف امریکہ سے گفتگو میں دفاع کے موقف کو ’محض کیس کو طول دینے کا ایک حربہ‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کیا۔

’’پرویز مشرف اور ان کے وکلاء استغاثہ کے کیس کو خراب کرنا چاہتے ہیں۔ جیسے جیسے وقت گزرتا ہےکیسں کمزور ہوتا جاتا ہے۔ شہادتیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ پانچ سال ہوگئے ہیں مگر اب تک (پرویز) مشرف سے متعلق اس کیس میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی۔‘‘

اظہر چوہدری کا کہنا تھا کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی نظر بندی کیس کی طرح پرویز مشرف کے خلاف اسلام آباد میں سب جیل قرار دیے گئے ان کے فارم ہاؤس پر مقدمہ کی سماعت ممکن نہیں کیونکہ سابق فوجی سربراہ کے علاوہ اس مقدمے میں سات اور ملزمان بھی ہیں جن میں دو اعلیٰ پولیس افسران اور حملہ آوروں کے پانچ ساتھی بھی شامل ہیں۔


2007ء میں سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کو راولپنڈی میں ایک دہشت گردانہ حملے میں اس وقت ہلاک کردیا گیا تھا جب وہ اپنے انتخابی جلسے سے خطاب کے بعد واپس جارہی تھیں۔ اس وقت کی نگران حکومت نے اس حملے کی ذمہ داری القاعدہ سے منسلک تحریک طالبان پاکستان پرعائد کی تھی۔

سابق صدر پرویز مشرف پر الزام ہے کہ انہوں نے بے نظیر بھٹو کو مربوط سکیورٹی فراہم نہیں کی اس لیے استغاثہ کے مطابق وہ سابق وزیراعظم کے قتل کی سازش میں ملوث ہیں۔

پرویز مشرف کے وکیل احمد رضا قصوری کے مطابق خفیہ اداروں کی معلومات تھی کہ گزشتہ ہفتے ڈیرہ اسماعیل خان میں جیل پر حملے کے بعد کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے رکن اسلام آباد میں دیگر چند اہداف سمیت پرویز مشرف پر بھی حملہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ جس بناء پر انہیں منگل کو عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔

’’ہم نے جو کچھ کہا سیکورٹی اداروں کی معلومات کی بنیاد پر کہا۔ وہ (پرویز مشرف) اپنے فارم ہاؤس میں اسوقت زیر حراست ہیں اور وہاں سے عدالت تک محفوظ طریقے سے پہنچانا یہ ریاست کی ذمہ داری ہے اور ریاست یہ ذمہ داری لینے کو تیار نہیں۔‘‘

ادھر انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے منگل کو اپنے ایک بیان میں پرویز مشرف کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر کارروائی شروع کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ تاہم تنظیم نے اس کارروائی کو شفاف اور انصاف کے تقاضوں کے تحت شروع کرنے پر زور دیا۔

’’مشرف کو وہ تمام حقوق فراہم کیے جائیں جو کہ کسی ایک ملزم کو حاصل ہیں۔۔تاہم (جرم ثابت ہونے کی صورت میں) انہیں سزائے موت نا دی جائے۔‘‘

انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق سابق فوجی صدر کے نو سالہ دور میں جبری گمشد گیوں کے علاوہ سیاسی کارکنوں، دہشت گردوں اور انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

احمد رضا قصوری کا کہنا تھا کہ عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ سیکورٹی کے خدشات کے پیش نظر اس مقدمے میں سابق فوجی سربراہ کی غیر موجودگی کو تسلیم کرتے ہوئے عدالتی کارروائی کی جائے۔
مقدمے کی آئندہ سماعت 20 اگست کو ہوگی۔
XS
SM
MD
LG