رسائی کے لنکس

بلاول بھٹو زرداری کے سیاسی سفر کا باقاعدہ آغاز


بلاول بھٹو زرداری

بلاول بھٹو زرداری

بلاول بھٹو یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ کراچی میں ہونے والے جلسے سے اپنی والدہ کے "نامکمل سفر کو مکمل کریں گے۔"

پاکستان میں مرکز میں حزب مخالف کی سب سے بڑی اور جنوبی صوبہ سندھ میں حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ہفتہ کو باقاعدہ طور پر اپنے سیاسی سفر کا آغاز کر رہے ہیں اور اس کے لیے پی پی پی نے کراچی میں ایک بہت بڑے جلسے کا اہتمام کیا۔

26 سالہ بلاول حالیہ مہینوں میں ملک کی سیاسی صورتحال اور دیگر معاملات پر اپنے تند و تیز بیانات اور ٹوئٹر پر پیغامات کی وجہ سے بھی ذرائع ابلاغ میں موضوع بحث رہے ہیں۔

کراچی کے اس جلسے کو ملک میں پیپلز پارٹی کی طاقت کے مظاہرے کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے کیونکہ 2008ء سے 2013ء تک برسر اقتدار رہنے کے بعد یہ جماعت صرف صوبہ سندھ ہی مں حکومت بنا سکی تھی جس پر سیاسی حلقوں میں اس کی ساکھ سے متعلق چہ می گوئیاں ہوتی رہی ہیں۔

بلاول 21 ستمبر 1988ء کو پیدا ہوئے۔ ان کی پیدائش کے تین ماہ بعد ہی ان کی والدہ بینظیر بھٹو پاکستان اور مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم بنیں۔

انھوں نے ابتدائی تعلیم کراچی کے تعلیمی اداروں میں حاصل کی لیکن 1999ء میں اپنی والدہ کی خود ساختہ جلا وطنی کے وقت وہ ان کے ساتھ ہی بیرون ملک چلے گئے۔ انھوں نے کچھ عرصہ دبئی میں رہنے کے بعد برطانیہ میں آکسفورڈ یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔

18 اکتوبر 2007ء کو بینظیر بھٹو اپنی آٹھ سالہ خود ساختہ جلاوطنی ختم کر کے وطن واپس آئیں۔ کراچی ہوائی اڈے سے لاکھوں افراد کے جلوس میں ان کا قافلہ جب کار ساز کے مقام پر پہنچا تو یہاں ہونے والے دو بم دھماکوں سے یہ سفر وہیں رک گیا۔

اس واقعے میں پیپلز پارٹی کے ڈیڑھ سو سے زائد کارکن ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو گئے۔

بلاول بھٹو یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ کراچی میں ہونے والے جلسے سے اپنی والدہ کے "نامکمل سفر کو مکمل کریں گے۔"

بینظیر بھٹو اس بم حملے میں محفوظ رہیں لیکن 27 دسمبر 2007ء کو راولپنڈی میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کے بعد اسلام آباد جاتے ہوئے بم حملے میں موت کا شکار ہوئیں۔

اپنی والدہ کی موت کے وقت بلاول بھٹو لندن میں تھے اور وہ ان کی تدفین میں شرکت کے لیے پاکستان آئے۔ دو بار ملک کی وزیراعظم رہنے والی محترمہ بھٹو نے اپنی وصیت میں اپنے شوہر آصف علی زرداری کو اپنا سیاسی جانشین مقرر کیا لیکن انھوں نے بلاول کو پارٹی کا چیئرمین نامزد کردیا۔

آصف زرداری 2008ء میں پاکستان کے صدر منتخب ہوئے تھے۔

بینظیر کے تدفین کے بعد آصف زرداری نے بلاول زرداری کا نام تبدیل کرتے ہوئے اسے بلاول بھٹو زرداری کر دیا۔ اسی طرح اپنی دونوں بیٹیوں کے نام بھی بختاور بھٹو زرداری اور آصفہ بھٹو زرداری رکھے۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد بلاول 2011ء میں وطن واپس آئے اور سیاسی معاملات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ لیکن پارلیمان کا رکن بننے کے لیے کم ازکم عمر 25 سال ہے اور اسی قانون کو مدنظر رکھتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے 2013ء کے انتخابات میں حصہ نہیں لیا اور اب وہ لاڑکانہ سے قومی اسمبلی کی نسشت کے لیے انتخاب میں حصہ لینے کا اعلان کر چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG