رسائی کے لنکس

اب اس مسودہ قانون کو منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا اور دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد صدر کے دستخطوں کے بعد یہ قانون نافذ العمل ہو گا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت میں حزب اختلاف کی جماعتوں کی حمایت کے بعد ایوان بالا یعنی سینٹ نے تحفظ پاکستان بل 2014ء کا مسودہ منظور کر لیا۔

اب اس مسودہ قانون کو منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا اور دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد صدر کے دستخطوں کے بعد یہ قانون نافذ العمل ہو گا۔

اس بل کے تحت حکام اور قانون سازوں کے بقول ملک میں خونریز دہشت گردی اور لاقانونیت پر قابو پانے کے لیے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے اختیارات میں غیر معمولی اضافہ کیا گیا ہے۔

اس سے قبل تحفظ پاکستان بل کو نا صرف حزب اختلاف بلکہ حکومت کی اتحادی مذہبی و سیاسی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) کے قانون سازوں نے اس بنا پر مسترد کر دیا تھا کہ وہ اس کی بعض شقیں انسانی حقوق کے منافی ہیں۔

تاہم گزشتہ ہفتے ہی چند ترامیم کے بعد سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور داخلہ میں حکومت اور حزب اختلاف کے اراکین نے مسودے کی منظوری دے دی۔

کمیٹی کے رکن اور متحدہ قومی موؤمنٹ کے سینیٹر سید طاہر حسین مشہدی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ مسودہ قانون میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار ناصرف مشتبہ شخص کو کسی قانونی کارروائی کے بغیر چھ ماہ تک تحویل میں رکھ سکیں گے بلکہ افسر کے حکم پر اس پر گولی بھی چلا سکتے ہیں۔

اس سے پہلے سکیورٹی اہلکار صرف اپنے دفاع کی صورت میں گولی چلانے کا حق رکھتے تھے۔

’’یہ (دہشت گرد) ہمارے کئی اضلاع میں ہیں، جھنگ میں، رحیم یار خان میں اور کراچی میں ان کی موجودگی ثابت ہوئی ہے۔ اس مسودہ قانون میں سزا سخت ہے۔‘‘

طاہر مشہدی کا کہنا تھا کہ نواز انتظامیہ تحفظ پاکستان نامی قانون کا منظوری کے بعد نفاذ صرف دہشت گردی و لاقانونیت سے متاثرہ مخصوص علاقوں تک محدود رکھنا چاہتی تھی لیکن پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد اب یہ ملک بھر میں نافذ ہو جائے گا۔

مجوزہ بل کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی طرف سے اختیارات کے ممکنہ غلط استعمال کو روکنے کے لیے محکمانہ کارروائی کی بجائے عدالتی کمیشن کے ذریعے تحقیقات کا نظام متعارف کروایا گیا ہے۔

حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور داخلہ کی رکن نجمہ حمید کا کہنا تھا کہ دہشت گردی و لاقانونیت کی روک تھام صرف اُسی صورت ممکن ہے جب منظوری کے بعد اس قانون کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں خونریز شدت پسندی کا خاتمہ صرف فوجی آپریشن سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے موثر قانون سازی کے ساتھ ساتھ جدید تقاضوں کے مطابق تحقیقات کو یقینی بنانا اور فعال عدالتی نظام ناگزیر ہیں تاکہ شدت پسندی میں ملوث عناصر سزا سے نا بچ سکیں۔

XS
SM
MD
LG