رسائی کے لنکس

بن لادن کی پناہ گاہ کے قریب تفریحی پارک بنانے کا منصوبہ


بلال ٹاؤن میں اسامہ بن لادن کی آخری پناہ گاہ

بلال ٹاؤن میں اسامہ بن لادن کی آخری پناہ گاہ

صوبہ خیبر پختونخواہ کی وزارت صحت کے عہدیدار جمال الدین خان نے کہا ہے کہ ایک نجی کمپنی کے اشتراک سے بنائے جانے والے پارک میں چڑیا گھر، منی گالف کورس، واٹر سپورٹ کی سہولتیں بھی شامل ہوں گی۔

پاکستان کے فوجی چھاؤنی اور القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کی آخری پناہ گاہ والے شہر ایبٹ آباد میں صوبہ خیبر پختون خواہ کی حکومت ایک تفریحی پارک بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق صوبہ خیبر پختونخواہ کی وزارت صحت کے عہدیدار جمال الدین خان نے کہا ہے کہ ایک نجی کمپنی کے اشتراک سے بنائے جانے والے پارک میں چڑیا گھر، منی گالف کورس، واٹر سپورٹ کی سہولتیں بھی شامل ہوں گی۔

اُنھوں نے کہا کہ یہ منصوبہ پانچ سال میں مکمل ہو گا۔

مجوزہ تفریحی پارک اسامہ بن لادن کی آخری پناہ گاہ سے تقریباً 10 کلو میڑ کے فاصلے پر بنایا جائے گا، تاہم عہدیداروں کا کہنا ہے اس پارک کا اسامہ بن لادن سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

امریکی کمانڈوز کی ایک ٹیم نے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے افغانستان سے پرواز کرتے ہوئے دو مئی 2011ء کو ایبٹ آباد پہنچ کر رات کی تاریکی میں القاعدہ کے مفرور رہنما کے خلاف کارروائی کر کے اُسے ہلاک کر دیا تھا۔

بعد ازاں فروری 2012ء کو ایبٹ آباد کے بلال ٹاؤن میں واقع اس گھر کو مسمار کر دیا گیا۔

امریکی آپریشن کے بعد کسی مرحلے پر بھی پاکستانی حکام نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بن لادن کے گھر کے اندر جانے کی اجازت نہیں دی تھی البتہ ابتدائی ایام کے دوران اس کی بیرونی دیواروں تک صحافیوں کو جانے کی اجازت دی گئی جس پر بعد میں پابندی لگا دی گئی۔

کمشنر ہزارہ ڈویژن خالد خان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اُنھوں نے بن لادن کے گھر کے مقام پر سرکاری رہائش گاہیں بنانے کا ایک منصوبہ بنایا تھا۔ ’’ (رہائش گاہوں کی تعمیر) کے لیے ایک سمری میں نے بجھوائی ہوئی ہے لیکن ابھی تک اس کی منظوری نہیں ہوئی ہے۔‘‘
XS
SM
MD
LG