رسائی کے لنکس

نوزائیدہ بچوں کی زندگی بچانے کے لیے نال کو جراثیم سے محفوظ رکھیں


نوزائیدہ بچوں کی زندگی بچانے کے لیے نال کو جراثیم سے محفوظ رکھیں

نوزائیدہ بچوں کی زندگی بچانے کے لیے نال کو جراثیم سے محفوظ رکھیں

اس تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر ذوالفقار بھٹہ نے بتایا کہ ”گھروں میں شدید انفیکشن کی وجہ سے نوزائیدہ بچوں کی بڑی تعداد میں اموات کے حوالے سے ہماری تحقیق نے نہ صرف اس بات کے ثبوت فراہم کیے ہیں کہ جراثیم کش محلول کے استعمال جیسے سادہ اور کم خرچ طریقے کا استعمال بچوں کی زندگی بچا سکتا ہے بلکہ پیدائش کے لیے استعمال ہونے والی کٹس زچگی میں موثر ثابت ہوتی ہیں“۔ انھوں نے مزید کہا، ”اگر یہ طریقے مقامی آبادیوں اور سرکاری اسپتالوں میں استعمال کیے جائیں تو زیادہ سے زیادہ لوگ ان سے مستفید ہوسکتے ہیں۔“

پاکستان میں ہر سال ہزاروں نوزائیدہ بچے ان وجوہات کی بناء پر زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں جن سے بچنے کے لیے کسی ٹیکنالوجی کے استعمال کی ضرورت نہیں بلکہ صفائی ستھرائی سے متعلق ان بنیادی باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے جو عام ہوتے ہوئے بھی عام نہیں ہیں ۔

پاکستان میں نوزائیدہ بچوں کی ہلاکت کی شرح دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔یہاں ہر 10,000 میں سے 53 بچے موت کا شکار ہوجاتے ہیں جن میں سے ایک تہائی ہلاکتیں انفیکشن کے باعث ہوتی ہیں ۔ پاکستان میں نوزائیدہ بچوں کی بڑھتی ہوئی شرح اموات کم کرنے کے لیے حال ہی میں آغا خان یونیورسٹی کے ڈویژن آف ویمن اینڈ چائلڈ ہیلتھ کے سربراہ ڈاکٹر ذوالفقار بھٹہ کی دی لینسٹ نامی ایک اہم بین الاقوامی طبی جریدے میں شائع ہونے والی ایک تحقیق بتاتی ہے کہ نوزائیدہ بچوں کی نال کو جراثیم کش محلول سے صاف کرنے سے انفیکشن اورموت کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔

آغا خان یونیورسٹی کے ڈاکٹر ذوالفقار بھٹہ اور ان کی ٹیم کئی سالوں سے پاکستان کے مختلف دیہی علاقوں میں خواتین اور نوزائیدہ بچوں سے متعلق آگاہی کے فروغ اور بنیادی باتوں کو عام کرنے میں مصروف ہیں ۔

سندھ کے ضلع دادو کے 1,300 دیہات میں کیے جانے والے اس آزمائشی سروے کے نتائج کے مطابق وہ گروہ جس نے جراثیم کش محلول سے نال کی صفائی کا طریقہ اختیار کیا اس میں انفیکشن کے خطرے میں 42 فی صد جبکہ اموات میں 38 فی صد کمی آئی۔ تاہم محض ہاتھ دھونے سے انفیکشن یا ہلاکتوں کی شرح میں کوئی فرق نہ پڑا۔

وسائل کی کمی کا شکاردیہی ضلع دادو تقریباً10لاکھ آبادی پر مشتمل ہے۔یہاں پیدا ہونے والے ہر 1,000 بچوں میں سے 90 بچے ہلاک ہوجاتے ہیں۔ 80 فی صد سے زائد زچگیاں گھروں پر غیر تربیت یافتہ دائیوں کے ذریعے انجام پاتی ہیں اور تقریباً 90 فی صد گھرانوں میں روایتی طریقوں کے مطابق نال پر سرمہ ، راکھ ،تیل بلکہ گائے کا گوبرتک لگایا جاتا ہے اور پیدائش کے بعد نال کاٹنے کے لیے جراثیم سے پاک آلے کا استعمال بھی نہیں کیا جاتا جس کی وجہ سے انفیکشن اور مو ت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ڈاکٹر ذوالفقار بھٹہ

ڈاکٹر ذوالفقار بھٹہ

آغا خان یونیورسٹی کے مطابق اس تحقیق میں جنوری 2008ء سے لے کر جون 2009ء کے دوران پیدا ہونے والے 10,000 بچے زیر مطالعہ رہے۔ ان بچوں کوچار گروہوں میں تقسیم کر کے مطالعے کے تحقیق کاروں نے نال کی دیکھ بھال کے چار طریقے استعمال کیے۔ جن میں تین طریقے اس تحقیق میں تجویز کیے گئے تھے جبکہ چوتھا طریقہ صحت کی عالمی تنظیم (ڈبلیو ایچ او)کا تجویز کردہ تھا۔ اس مطالعے کا مقصد ان تمام طریقوں کی افادیت کا جائزہ لینا اور موازنہ کرنا تھا۔

پہلے گروہ کوبرتھ کٹس(زچگی کے عمل کے لیے ضروری اشیا کی کٹس) فراہم کی گئیں۔ اس کٹ میں4 فی صد Chlorhexidine، CH نامی جراثیم کش محلول ہوتا ہے۔ پیدائش کے فوراً بعد دائی یہ محلول نال پر لگاتی ہے جبکہ اگلے 14 دن تک یہ عمل گھر کا کوئی اور فرد انجام دے سکتا ہے۔ اس کٹ میں جراثیم کش محلول کے علاوہ صابن اورہاتھوں کو صاف رکھنے کے بارے میں معلوماتی مواد بھی شامل ہوتا ہے۔ دوسرے گروہ کو محض جراثیم کش محلول دیا گیا اور تیسرے گروہ کو صرف ہاتھ دھونے سے متعلق اشیاء دی گئیں۔ چوتھے گروہ کو ڈبلیو ایچ او کے تجویز کردہ نال کی دیکھ بھال کے معیاری طریقہ یعنی ڈرائی کورڈ کیئر پر عمل کرنے کو کہا گیا۔

اس تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر ذوالفقار بھٹہ نے بتایا کہ ”گھروں میں شدید انفیکشن کی وجہ سے نوزائیدہ بچوں کی بڑی تعدا د میں اموات کے حوالے سے ہماری تحقیق نے نہ صرف اس بات کے ثبوت فراہم کیے ہیں کہ جراثیم کش محلول کے استعمال جیسے سادہ اور کم خرچ طریقے کا استعمال بچوں کی زندگی بچا سکتا ہے بلکہ پیدائش کے لیے استعمال ہونے والی کٹس زچگی میں موثر ثابت ہوتی ہیں“۔ انھوں نے مزید کہا، ”اگر یہ طریقے مقامی آبادیوں اور سرکاری اسپتالوں میں استعمال کیے جائیں تو زیادہ سے زیادہ لوگ ان سے مستفید ہوسکتے ہیں۔ “

ان کے بقول ” یہ حقائق جنوبی ایشیا کے ان علاقوں میں بھی عوامی صحت کے شعبے میں اہم اثرات مرتب کریں گے جو مماثل ثقافتی، سماجی اور معاشی خصوصیات کے حامل ہیں“۔ وہ کہتے ہیں کہ ان طریقوں کو حکومت پاکستان کے فیملی پلاننگ اینڈ پرائمری کیئر پروگرام کے ان طریقوں میں شامل کیا جاسکتا ہے جو لیڈی ہیلتھ ورکرزانجام دیتی ہیں۔

اس تحقیق کے لیے مالی معاونت یو ایس ایجنسی فار انٹرنیشنل ڈیویلپمنٹ (یو ایس ایڈ)نے فراہم کی۔

XS
SM
MD
LG