رسائی کے لنکس

بلوچستان: جھڑپ میں ایک سکیورٹی اہلکار اور 15 'شدت پسند' ہلاک

  • ستار کاکڑ

فائل فوٹو

فائل فوٹو

بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ کیمپ کالعدم بلوچ لبر یشن فرنٹ کے عسکریت پسندوں کا تھا۔ تاہم 15 عسکریت پسندوں کی ہلاکت اور بی ایل ایف کے کیمپ کو تباہ کرنے کے ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے مغربی ضلع واشک میں مشتبہ بلوچ عسکریت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان چھڑپ میں کم ازکم 15 شدت پسند مارے گئے جب کہ ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگیا ہے۔

فرنٹئیرکور بلوچستان کی طرف سے جاری کیے گئے بیان میں بتایا گیا ہے کہ ضلع واشک کی تحصیل بسیمہ کے پہاڑی علاقے میں بلوچ عسکر یت پسندوں کے کیمپ کی موجودگی کی اطلاعات پر فرنٹئیر کور قلات سکاﺅٹس کے اہلکار سرچ آپریشن میں مصروف تھے کہ ایک غار میں قائم کیمپ میں موجود عسکر یت پسندوں نے ایف سی اہلکاروں پر فائرنگ شروع کر دی۔

فائرنگ سے ایف سی کا ایک اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہو گئے۔ بیان کے مطابق جوابی کاروائی میں کیمپ میں موجود تمام 15 عسکر یت پسندوں کو ہلاک کردیا گیا اور یہاں سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا۔

بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ کیمپ کالعدم بلوچ لبر یشن فرنٹ کے عسکریت پسندوں کا تھا۔ تاہم 15 عسکریت پسندوں کی ہلاکت اور بی ایل ایف کے کیمپ کو تباہ کرنے کے ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی۔

اس سے پہلے بھی صوبائی وزیرداخلہ میر سر فراز بگٹی اور ایف سی حکام خضدار، تربت اور سبی میں بلوچ عسکر یت پسند تنظیموں کے زیر نگرانی چلنے والے درجنوں کیمپوں کو ختم کرنے اور بڑی تعداد میں عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کر چکے ہیں۔

بلوچستان کے صوبائی سیکرٹری داخلہ اکبر حسین دُرانی کا کہنا ہے کہ امن و امان صوبائی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے اور اس میں ماضی کی نسبت کافی بہتری آئی ہے۔

دریں اثناء فرنٹئیرکو ر کے ایک اور بیان میں مز ید بتایا گیا ہے کہ بلوچستان کے مشرقی ضلع سبی میں نو شدت پسندوں نے ہتھیار ڈال کر ریاست کی عملداری تسلیم کرنے کا حلف اٹھایا۔

سرکاری بیان کے مطابق یہ شدت پسند ریلوے کی پٹڑی اور سوئی گیس کی پائپ لائنوں کو دھماکا خیز مواد سے اُڑانے اور سکیورٹی فورسز پر حملوں میں مبینہ طور پر ملوث تھے۔

XS
SM
MD
LG