رسائی کے لنکس

پیغمبر اسلام کے خاکے کی اشاعت تہذیبوں میں تفریق کی کوشش ہے: پاکستان


فائل فوٹو

فائل فوٹو

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان آزادی اظہار پر یقین رکھتا ہے لیکن اسے لوگوں کے جذبات اور مذہبی عقائد کو ٹھیس پہنچانے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیئے۔

پاکستان نے فرانسیسی جریدے میں پیغمبر اسلام کے خاکے کی اشاعت کی ایک مرتبہ پھر شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگوں اور تہذیبوں میں تفریق کی ایک کوشش ہے۔

وزارت خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم کے دفتر سے منگل کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ وزیراعظم نواز شریف کے مشیر برائے اُمور خارجہ و قومی سلامتی سرتاج عزیز نے اسلامی ممالک کی تنظیم ’او آئی سی‘ کے سیکرٹری جنرل کو ایک خط لکھا ہے، جس میں یہ تجویز دی گئی کہ توہین آمیز خاکے کی اشاعت پر فرانسیسی جریدے سے معافی طلب کرنے کے لیے اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان آزادی اظہار پر یقین رکھتا ہے لیکن اسے لوگوں کے جذبات اور مذہبی عقائد کو ٹھیس پہنچانے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیئے۔

وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق اس وقت لوگوں میں ہم آہنگی بڑھانے کی ضرورت ہے، نا کہ اپنے اپنے ممالک تک لوگوں کو محدود رکھا جائے۔

پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار نے ایک حالیہ بیان میں کہا تھا کہ دہشت گردی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے مذہب کے درمیان ہم آہنگی ضروری ہے۔

واضح رہے کہ فرانسیسی جریدے چارلی ایبڈو کے شمارے میں پیغمبر اسلام کے خاکے کی اشاعت کے بعد پاکستان کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی اور سینیٹ کی خارجہ اُمور کی کمیٹی نے مذمتی قرار دادیں منظور کی تھیں۔

جب کہ وزیراعظم نواز شریف اور صدر ممنون حسین نے بھی توہین آمیز خاکے کی اشاعت کی شدید الفاظ میں مذمت کی تھی۔

گزشتہ جمعہ کو ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے۔

کراچی میں ہونے والے ایک مظاہرے میں مشتعل افراد اور پولیس کے درمیان جھڑپ میں فرانسیسی خبر رساں ادارے کے فوٹو گرافر سمیت تین افراد زخمی ہو گئے تھے۔

فرانسیسی جریدے چارلی ایبڈو اس سے قبل بھی پیغمبر اسلام کے خاکے شائع کر چکا ہے جس پر اسے تنقید اور سنگین تنائج کی دھمکیوں کا سامنا رہا۔

گزشتہ ماہ پیرس میں چارلی ایبڈو کے دفتر پر شدت پسندوں نے حملہ کر کے مدیر اعلیٰ اور پانچ کارٹونسٹس سمیت 12 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔

گزشتہ ہفتے ایک ویڈیو پیغام میں القاعدہ کی یمن شاخ نے فرانسیسی جریدے پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔​

XS
SM
MD
LG