رسائی کے لنکس

توہین رسالت کے الزام میں ڈاکٹر گرفتار


توہین رسالت کے الزام میں ڈاکٹر گرفتار

توہین رسالت کے الزام میں ڈاکٹر گرفتار

پاکستان کے جنوبی شہر حیدر آباد میں پولیس نے توہین رسالت کے الزام میں ایک ڈاکٹر کو گرفتار کرنے کی تصدیق کی ہے۔

ادویات بنانے والی ایک کمپنی کے نمائندے محمد فیضان نے پولیس کو بتایا تھا کہ کلینک پر ملاقات کے دوران اُن کے نام والے تعارفی کارڈ کو ڈاکٹر نوشاد والیانی نے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا اس لیے وہ توہین رسالت کے مرتکب ہوئے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ پاکستان میں آباد اقلیتی اسماعیلی فرقے سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر نوشاد نے اپنے اس رویے پر محمد فیضان سے معافی مانگ لی تھی جس کے بعد معاملہ رفع دفع ہوگیا ۔ لیکن بعد میں مقامی مذہبی رہنماؤں نے مداخلت کرکے پولیس پر دباؤ ڈالا کہ ڈاکٹر کے خلاف توہین رسالت کا مقدمہ درج کیا جائے۔

آسیہ بی بی

آسیہ بی بی

گذشتہ ماہ ایک پاکستانی عدالت نے اقلیتی عیسائی برادری سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون آسیہ بی بی کو توہین رسالت کا جرم ثابت ہونے پر موت کی سزا سنائی تھی۔

45 سالہ اس خاتون کو، جو پانچ بچوں کی ماہ ہے، جون 2009 ء میں گاؤں کی مسلمان خواتین کے اس دعوے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا کہ اُس نے پیغمبر اسلام کے لیے نازیبا الفاظ استعمال کیے۔

آسیہ بی بی کو موت کی سزا ملنے پر اندرون ملک اور بین الاقوامی تنظیموں کی طرف سے کڑی تنقید کی گئی اور توہین رسالت کے متنازعہ قانون کی منسوخی یا اس میں اصلاحات کے مطالبات کو دہرایا گیا۔

اس بین الاقوامی دباؤ کے بعد پاکستانی حکومت نے عیسائی خاتون کی سزا معاف کرنے کا عندیہ دیا لیکن بعد میں ایک عدالت نے حکومت کا پابند کردیا کہ وہ ایسا کوئی بھی قدم نہیں اٹھا سکتی۔ اعلیٰ عدالت کے جج کاموقف تھا کہ آسیہ بی بی کی اپیل ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے اور اس کا فیصلہ ہونے تک ملک کا صدر یا وزیراعظم ایسا کوئی قدم نہیں اٹھا سکتے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں توہین رسالت کے تحت جن افراد کو موت کی سزاسنائی گئی ہے اُس پر عملدرآمد نہیں کیا جاسکا ہے کیونکہ ماتحت عدالتوں کے ان فیصلوں کوپاکستان کی اعلیٰ عدالتیں ٹھوس شواہد کی عدم موجودگی میں فوری طور پر معطل یا مسترد کردیتی ہیں۔

XS
SM
MD
LG