رسائی کے لنکس

قانون ناموس رسالت: صدر یا وزیراعظم یقین دہانی کرائیں


قانون ناموس رسالت: صدر یا وزیراعظم یقین دہانی کرائیں

قانون ناموس رسالت: صدر یا وزیراعظم یقین دہانی کرائیں

جماعت اسلامی کے راہنما سینیڑپروفیسر خورشید احمد نے وفاقی وزیربرائے اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ کے اس بیان کا خیرمقدم کیا ہے کہ ناموس رسالت کے قانون میں کسی نوعیت کی تبدیلی حکومت کے زیرغور نہیں ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ بات اگر وزیراعظم پارلیمنٹ کے فورم سے کہیں یا صدرپاکستان اس بات کی یقین دہانی کرائیں تو ہی بات قابل قبول ہوگی ۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کا ایک خاص کردار رہا ہے اور گورنر چونکہ وفاق کے نمائندہ ہوتے ہیں اس لیے وضاحت صدر یا وزیراعظم کی جانب سے آنی چاہیے۔ اس سوال پر کہ کیا حکومت کی اس وضاحت پر مذہبی جماعتیں احتجاج کی کال واپس لےلیں گی، پروفیسر خورشید احمد نےپھر کہا کہ صرف صدر اور وزیراعظم کی بات پر ہی یقین کیا جائے گا‘‘ لیکن محض رحمان ملک یا کائرہ صاحب کے کہنے سے میں نہیں سمجھتا کہ اس مسئلے پر لوگ اپنا موقف بدلیں گے ’’ ۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں سیاسی، سماجی اور معاشی بحرانوں سے دوچار ہے اور ان حالات میں حکومت نے یہ وضاحت پیش کر کے بہرحال بہتر قدم اٹھایا ہے۔

پروفیسرخورشید نے کہا کہ انسان کے بنائے تمام قوانین پر بات ہو سکتی ہے اور اس پر ایک دوسرے کا نقطہ نظر سننے میں بھی کسی کو اعتراض نہیں ہے لیکن ہر بات کا ایک طریقہ ہوتا ہے۔ جماعت اسلامی کے رہنما کا کہنا تھا کہ ناموس رسالت کے قانون کو ایک لابی نے نشانہ بنایا ہوا ہے ۔ وہ بھی محض یہ کہتے ہوئے کہ یہ قانون ایک ڈکٹیٹر نے متعارف کرایا تھا وہ کہتے ہیں کہ مسئلہ ڈکٹیٹر یا پارلیمنٹ کا نہیں، جو قانون قرآن و سنت میں موجود ہے وہ اللہ کا قانون ہے۔ البتہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ جو بھی شخص اس قانون کا غلط استعمال کرے، اس کے خلاف کارروائی ضرور ہونی چاہئے اور اس کی سزا پینل کوڈ میں موجود ہے۔

پروفیسر مہدی حسن ممتاز تجزیہ کار اور آج کل پاکستان کے انسانی حقوق کمشن کے سربراہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کا ادارہ یہ موقف رکھتا ہے کہ ناموس رسالت کے قانون کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کیونکہ اس کا بہت غلط استعمال کیا گیا ہے لیکن اس پر سابق حکومتوں کا رویہ معذرت خواہانہ رہا ہے اور موجودہ حکومت کا روہ بھی معذرت خواہانہ اور مدافعانہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذہبی عناصر نے شیری رحمان کے پیش کردہ بل پروقت سے پہلے کارروائی شروع کر دی اور شاید اسی وجہ سے قمرزمان کائرہ کو اپنی حکومت طرف سے وضاحت پیش کرنا پڑی۔ پروفیسر مہدی حسن کہتے ہیں کہ حکومت موجودہ سیاسی حالات میں کسی بھی تنازعے سے گریز چاہتی ہے۔

وزیراحمد جوگزئی کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیرکا بیان حکومت کی پسپائی نہیں تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ ناموس رسالت کے قانون جیسے معاملات سے نمٹنے کے لیے ہرطرف سے جس ذہنی پختگی اور مضبوط جمہوریت کی ضرورت ہے اس کا ابھی فقدان ہے۔
انٹرویوز کی آڈیو:

XS
SM
MD
LG