رسائی کے لنکس

پاکستان میں توہین رسالت کا 'ملزم' قتل


فائل فوٹو

فائل فوٹو

دو روز قبل چند نقاب پوش عابد کو اُس کے گھر سے اغوا کر کے لے گئے اور بعد ازاں اس کی گولیوں سے چھلنی لاش بدھ کی صبح ویرانے سے برآمد ہوئی۔

پاکستان میں توہین رسالت کے الزام سے بری ہونے والے شخص کو نا معلوم افراد نے قتل کر کے اس کی لاش ویرانے میں پھینک دی۔

یہ واقعہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے تقریباً 35 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع علاقے ٹیکسلا میں پیش آیا۔

علاقے کے ایک اعلیٰ پولیس افسر نے وائس آف امریکہ کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ عابد محمود نامی شخص کو نا معلوم افراد نے گولیاں مار کر ہلاک کیا اور اس کی لاش عثمان کھٹڑ نامی علاقے کے ریلوے اسٹیشن کے قریب ویرانے سے ملی۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر پولیس افسر نے بتایا کہ مقتول کے خلاف 2011ء میں توہین رسالت کا مقدمہ درج ہوا تھا اور اڑھائی ماہ قبل ہی وہ اس سے بری ہونے کے بعد جیل سے رہا ہوا تھا۔

پولیس عہدیدار کے مطابق "اس شخص پر الزام تھا کہ اس نے نبوت کا دعویٰ کیا اور اس کے رشتے داروں نے اس کی باتوں کی ریکارڈنگ کر لی تھی اور پھر اس پر مقدمہ درج کروایا۔"

تاہم انھوں نے کہا کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ عابد کو مبینہ طور پر توہین رسالت کی وجہ سے قتل کیا گیا یا اس کے محرکات کچھ اور ہیں۔

"ابھی تفتیش کر رہے ہیں، اس کے گھر والوں کا رویہ بھی مشکوک ہے وہ قتل کی ایف آئی آر بھی درج کروانے نہیں آئے۔ پھر اس (عابد) کے بھائی کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا لیکن اس نے بھی ایف آئی آر میں کسی کو نامزد نہیں کیا۔"

شائع شدہ اطلاعات کے مطابق 52 سالہ عابد محمود کے خلاف توہین رسالت کا مقدمہ اس کے داماد نے درج کروایا۔ لیکن اس کی ذہنی حالت درست نہ ہونے کے بعد اسے جیل سے رہا کیا گیا۔

دو روز قبل چند نقاب پوش عابد کو گھر سے اغوا کر کے لے گئے اور بعد ازاں اس کی گولیوں سے چھلنی لاش بدھ کی صبح ویرانے سے برآمد ہوئی۔

ادھر مقامی ذرائع ابلاغ میں یہ خبر بھی آئی ہے کہ عابد کی اس کے آبائی علاقے میں تدفین کے وقت لوگ مشتعل ہو گئے اور انھوں نے اسے مقامی قبرستان میں دفن نہیں کرنے دیا جس پر عابد کو اس کے گھر کے صحن میں ہی دفن کر دیا گیا۔

پاکستان میں توہین مذہب ایک انتہائی حساس معاملہ ہے اور اس کے ملزموں کو اکثر قانونی اور عدالتی کارروائی سے پہلے ہی مشتعل لوگوں کی طرف سے تشدد سامنا کرنا پڑ جاتا ہے۔

XS
SM
MD
LG