رسائی کے لنکس

پشاور میں دو الگ الگ بم دھماکوں میں متعدد افراد ہلاک و زخمی


پیر کی شام قصہ خوانی بازار میں جماعتِ اسلامی کے کارکن بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف ایک احتجاجی ریلی میں شریک تھے لیکن جونہی یہ مظاہرہ ختم ہوا، ایک خودکش حملہ آور نے ہجوم میں زوردار دھماکہ کر دیا جِس کے نتیجے میں 21افراد موقعے پر ہی ہلاک ہوگئے، جب کہ متعدد زخمیوں میں کئی کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

اِس واقعے کے ایک چشم دید گواہ نے بتایا کہ، ‘ یہاں پر جیسے ہم نے لاشوں کو دیکھا، ہم خوف کے مارے لاشوں کے قریب نہیں آئے۔ جو ہمارے دوست ہمارے احباب تھے، ہم اُن کو ہاتھ نہیں لگا سکتے تھے، ڈرتے تھے کہ دوسرا دھماکہ نہ ہوجائے۔ ہم حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ خدارا اپنے سیاسی مقاصد کو چھوڑ کر اِس کا کوئی حل نکالیں۔’

صوبائی وزیرِ اطلاعات میاں افتخار حسین کے بقول، ‘یہ درندے ہیں، درندے۔’

‘لہٰذا، اِس قسم کے واقعات سے ہمیں حوصلے نہیں ہارنے چاہئیں، اور إِن لوگوں کا تبھی خاتمہ ہوگا کہ اِن تمام دہشت گردوں کا خاتمہ کیا جائے۔ اور یہ ہمارے حوصلے سے ہوگا۔ ’


صوبائی وزیرِ اطلاعات نے عوام کو یقین دیایا کہ، ‘ جب تک زندگی ہے، ہم یہ جہاد اِن کے خاتمے تک جاری رکھیں گے۔’

قصہ خوانی بازار میں ہونے والے اِس بم دھماکے میں ڈی ایس پی پولیس گلفت حسین اور جماعتِ اسلامی کے صوبائی نائب امیر حاجی دوست محمد بھی ہلاک ہوگئے۔

اِس واقعے سے چند گھنٹے قبل پشاور کے ناصر باغ روڈ پر ایک اسکول کے باہر بم دھماکے میں ایک چھ سالہ طالبِ علم ہلاک اور آٹھ دوسرے زخمی ہوگئے تھے۔

پچھلے تین روز کے دوران ہشاور اور کوہاٹ میں کل پانچ بم دھماکوں میں مجموعی طور پر 70سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG