رسائی کے لنکس

مولانا فضل الرحمٰن خودکش دھماکے میں بال بال بچ گئے


مولانا فضل الرحمن (فائل فوٹو)

مولانا فضل الرحمن (فائل فوٹو)

مولانا فضل الرحمٰن بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کے بعد واپس جا رہے تھے کہ اُن کی گاڑی کے قریب خودکش بم دھماکا ہوا۔

پاکستان کی ایک بڑی سیاسی و مذہبی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) کےسربراہ مولانا فضل الرحمٰن ایک خودکش بم حملے میں بال بال بچ گئے۔

جمعرات کو کوئٹہ میں ہونے والے اس بم دھماکے میں کم ازکم دو افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جب کہ لگ بھگ 20 افراد زخمی ہوئے جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کے بعد واپس جا رہے تھے کہ اُن کی گاڑی کے قریب بم دھماکا ہوا۔

پولیس کے مطابق حملہ آور کا ہدف بظاہر جلسہ گاہ ہی تھی لیکن وہ سخت سکیورٹی کی وجہ سے وہاں داخل نہیں ہو سکا۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ کی گاڑی بلٹ پروف تھی تاہم اس کے باجود فضل الرحٰمن کے بقول وہ بری طرح تباہ ہو گئی، لیکن وہ اس میں محفوظ رہے۔

’’دھماکے کی وجہ سے گاڑی کی سائیڈ بڑے زور سے ہمارے بازوؤں اور جسم کے حصوں کو لگی ہے۔ بس وہ جھٹکا لگا ہے کوئی زخمی وغیرہ نہیں ہے۔‘‘

بلوچستان پولیس کے ایک اعلٰی عہدیدار اعزاز گورائیہ نے دھماکے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’’دھماکے میں آٹھ کلو گرام باردو مواد استعمال کیا گیا اور یہ خودکش حملہ تھا۔‘‘

صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ حکومت نے مولانا فضل الرحمٰن کو بم پروف گاڑی فراہم کر رکھی تھی۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن پر اس سے قبل بھی حملے ہو چکے ہیں تاہم وہ اُن میں محفوظ رہے۔

اُدھر اطلاعات کے مطابق بلوچستان میں صورت حال کشیدہ ہے اور بعض علاقوں میں فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں۔

XS
SM
MD
LG