رسائی کے لنکس

راولپنڈی: امام بارگاہ کے باہر دھماکا، دو افراد ہلاک


یہ دھماکا راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم پر واقع کری روڈ پر ایک امام بارگاہ "قصر سکینہ" کے باہر ہوا جس کے بارے میں ابتدائی طور پر بتایا جا رہا ہے کہ یہ خودکش حملہ آور کی کارروائی تھی۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے جڑواں شہر راولپنڈی میں بدھ کی شام ایک امام بارگاہ پر بم دھماکے میں کم ازکم دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے، جس سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

یہ بم دھماکا راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم پر واقع کری روڈ پر ایک امام بارگاہ "قصر سکینہ" میں ہوا، جس کے بارے میں ابتدائی طور پر بتایا جا رہا ہے کہ یہ خودکش حملہ آور کی کارروائی تھی۔

عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور نے امام بارگاہ میں داخل ہونے کی کوشش سے قبل فائرنگ بھی کی۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق فائرنگ کے بعد حملہ آور نے دستی بم بھی امام بارگاہ کی حفاظت پر مامور افراد پر پھینکا۔

لیکن پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس حملے کی تحقیقات جاری ہیں۔

پاکستان میں حالیہ ہفتوں میں ملک میں امام بارگاہوں پر ہونے والا یہ چوتھا حملہ ہے۔

رواں ماہ پشاور میں ایک امام بارگاہ سے ملحقہ مسجد پر خودکش بمباروں کی کارروائی میں 20 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔

اس سے قبل جنوری کے اواخر میں پاکستان کے جنوبی شہر شکارپور میں ایک امام بارگاہ میں خودکش بم دھماکے میں 60 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے جب کہ جنوری ہی کے اوائل میں راولپنڈی کے علاقے چٹیاں ہٹیاں میں ایک امام بارگاہ کے باہر دھماکے میں سات افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

واضح رہے کہ ایک روز قبل ہی لاہور میں پولیس لائنز کے باہر خودکش بم دھماکے میں پانچ افراد مارے گئے۔

پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف ملک بھر میں بھرپور کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں جب کہ دہشت گردی پر سزائیں پانے والے مجرموں کی پھانسیوں پر عمل درآمد بھی جاری ہے۔

عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ملک میں ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملے بظاہر عسکریت پسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کا ردعمل ہیں۔

XS
SM
MD
LG