رسائی کے لنکس

صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے شعیہ اکثریت والے علاقے ہزارہ ٹاؤن میں بم دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی نمازہ جنازہ پیر کو سخت سکیورٹی میں ادا کی گئی جب کہ شہر میں فضا سوگوار رہی۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں اتوار کی شب امام بارگاہ ابو طالب کے باہر ہونے والے خودکش بم دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 30 ہو گئی ہے جب کہ اب بھی چالیس سے زائد افراد اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

شعیہ اکثریت والے علاقے ہزارہ ٹاؤن میں بم دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی نمازہ جنازہ پیر کو سخت سکیورٹی میں ادا کی گئی جب کہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں فضا سوگوار ہے اور تمام کاروباری مراکز بھی بند رہے۔

صوبائی حکومت نے ہزارہ شعیہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد پر خودکش بم حملے کی تحقیقات کے لیے چھ رکنی تفتیشی ٹیم بھی بنا دی ہے جو انتہائی سخت سکیورٹی اور ناکوں کے باوجود امام بارگاہ کے باہر ہونے والے اس دھماکے کے بارے میں حقائق اکٹھے کرے گی۔

کوئٹہ پولیس کے سربراہ میر زبیر محمود نے ہزارہ ٹاؤن میں واقع امام بارگاہ پر اتوار کی شب ہونے والے بم حملے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’’ایک خودکش بمبار سائیکل پر آیا اور امام بارہ گاہ کے قریب رضا کاروں نے جو چیک پوائنٹ بنا رکھا تھا جب اس پر خودکش بمبار کو روکا گیا تو اس نے دھماکا کر دیا۔‘‘

شیعہ برادری کی تنظیموں نے ہزارہ ٹاؤن میں ہونے والے خودکش بم حملے پر تین روزہ سوگ کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔

ہزارہ ٹاؤن میں اس سے قبل بھی مہلک حملے ہو چکے ہیں۔ رواں سال فروری میں اسی علاقے میں پھلوں اور سبزی کی مارکیٹ میں طاقتور بم دھماکے میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم ایک سو افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

بلوچستان میں گزشتہ ماہ خواتین کی ایک یونیورسٹی کی بس پر بم دھماکے کے بعد اسپتال میں خودکش بمباروں کی کارروائی میں کوئٹہ کے ڈپٹی کمشنر اور طالبات سمیت 25 افراد ہلاک ہو گئے تھے جب کہ صوبے کے سیاحتی علاقے زیارت میں بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی قیام گاہ زیارت ریزیڈنسی کو بھی بم دھماکوں میں تباہ کر دیا گیا تھا۔

مرکزی اور صوبائی حکومت نے ان واقعات کے بعد انٹیلی جنس ایجنسیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مابین تعاون بڑھانے پر زور دیا تھا۔

اُدھر اتوار کو ملک کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ کے دارالحکومت پشاور کے مضافات میں سکیورٹی فورسز کے ایک قافلے پر ریموٹ کنٹرول بم حملے میں دو بچوں سمیت 17 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس بم دھماکے میں زخمی ہونے والے چالیس افراد میں سے ایک نے پیر کی صبح دم توڑ دیا جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 18 ہو گئی۔

اتوار کی شام قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کے ایک اور قافلے کو بھی سڑک میں نصب بم سے نشانہ بنایا جس میں چار اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔

ملک میں حالیہ ہفتوں کے دوران ایک مرتبہ پھر دہشت گردوں کے حملوں میں تیزی آئی ہے۔

صوبہ خیبر پختونخواہ، صوبہ بلوچستان کے علاوہ ملک کے اقتصادی مرکزی کراچی میں بھی بم دھماکے ہوئے جن میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت درجنوں افراد ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔
XS
SM
MD
LG