رسائی کے لنکس

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں معروف شاعرہ فاطمہ حسن کا کہنا تھا کہ ادب و ثقافت کی پذیرائی کرنے والے معاشرے ہی مہذب معاشرے کہلاتے ہیں۔

پاکستان کا آٹھواں قومی کتاب میلہ ہفتہ کو اسلام آباد میں شروع ہوا جو منتظمین کے بقول اس نوعیت کا ملک کا سب سے بڑا میلہ ہے۔

قومی کتاب فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام اس تین روزہ میلے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ممنون حسین نے خاص طور پر نوجوان نسل میں کتب بینی کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا کو اس وقت دہشت گردی و انتہا پسندی سمیت کثیر الجہت چیلنجز کا سامنا ہے جن سے صرف سماجی، سیاسی اور تاریخی پہلوؤں کو مدنظر رکھ کر ہی نمٹا جا سکتا ہے۔

صدر کے بقول یہ کتاب میلہ ملک اور دنیا بھر میں امید، بھائی چارے اور ہم آہنگی کے پیغام کے فروغ کے لیے ایک صحت مندانہ سرگرمی ہے۔

اس میلے کا موضوع "کتاب، زندگی، امید، روشنی" رکھا گیا ہے اور اس میں ایک سو سے زائد ناشران اور کتاب کی فروخت سے وابستہ ادارے شریک ہیں۔

مزید برآں شاعروں، ادیبوں، مصنفین، ادبی نقاد اور شعبہ درس و تدریس سے وابستہ نامور شخصیات بھی میلے میں موجود ہیں۔

نامور شاعرہ فاطمہ حسن کہتی ہیں کہ معاشرتی برائیوں کے خاتمے کے لیے ادبی سرگرمیوں کا فروغ انتہائی اہم ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ادب و ثقافت کی پذیرائی کرنے والے معاشرے ہی مہذب معاشرے کہلاتے ہیں۔

میلے میں ہر عمر کے افراد کی ایک بڑی تعداد شریک ہے جو یہاں رکھی گئی ہزاروں کتابوں میں اپنی پسند کی کتابوں کی خریداری بھی کر رہی ہے کیونکہ لاتعداد کتابیں یہاں رعائتی نرخوں پر دستیاب ہیں۔

یہاں آئے ایک نوجوان سراج الحق کا کہنا تھا کہ ایسے میلوں میں ادیبوں سے ملنے کا موقع ملتا ہے جس سے نہ صرف بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے بلکہ مثبت سوچ کے فروغ میں بھی مدد ملتی ہے۔

یہ میلہ تین روز تک جاری رہے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG