رسائی کے لنکس

کراچی میں پانچ روزہ عالمی کتب میلہ


کراچی میں پانچ روزہ عالمی کتب میلہ

کراچی میں پانچ روزہ عالمی کتب میلہ

عالمی کتب میلہ میں تقریباً سو پبلشرز شرکت کر رہے ہیں اور 250 ملکی و غیر ملکی بک اسٹالز یہاں لگائے گئے ہیں جن میں بھارت، ایران ، سنگاپور، تھائی لینڈ، یونان، برطانیہ وغیرہ کے پبلشرز بھی شامل ہیں اس کے علاوہ کئی ممالک کے پبلشرز یہاں خراب سیاسی حالات کی وجہ سے نہیں آسکے۔

کتابوں کو انسانوں کا بہترین دوست کہا جاتا ہے جو انھیں خود آگاہی اور اپنے اردگرد کے حالات و واقعات کاادراک کراتی ہیں ۔
پاکستا ن کے سب سے بڑے شہر کراچی کے ایکسپو سینٹر میں پانچ روزہ عالمی کتب میلہ کا آغاز ہو چکا ہے جہاں ہر موضوع پر دنیا بھر سے کتابیں لیے پبلشرز اس کتب میلہ کا حصہ بنے ہوئے ہیں اور مقامی لوگوں کی جوق در جوق آمد جاری ہے۔

کراچی عالمی کتب میلہ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی صوبائی وزیر تعلیم پیر مظہر الحق نے کہا کہ ہر سال کتب میلہ کا کامیابی سے انعقاد اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ لوگوں میں کتب بینی کا شوق موجود ہے اور وقت کے ساتھ پروان چڑھ رہا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اس میلے میں تین لاکھ کے قریب کتابیں رکھی گئی ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے بعد سکھر اور لاڑکانہ میں بھی اسی طرح کے کتب میلوں کا انعقاد ہونا چاہئیے اور اس کے لیے حکومت پبلشرز کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرے گی ۔

کراچی میں پانچ روزہ عالمی کتب میلہ

کراچی میں پانچ روزہ عالمی کتب میلہ

کراچی میں گذشتہ چھ سال سے عالمی کتب میلے کا انعقاد پاکستان پبلشرز اینڈ بک سیلرز ایسوسی ایشن کے زیرِ انتظام کیا جارہا ہے۔ خالد عزیز پاکستان پبلشرز اینڈ بک سیلرز ایسوسی ایشن کے صدر ہیں۔ انھوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اس وقت پاکستان کی سرحدوں پر جو حالات ہیں اس سے لوگوں خاص کر نوجوان ڈپریشن کا شکار ہیں ایسے میں کتابیں لوگوں کے اندر نئی زندگی پھونک دیتی ہیں اس لیے ہماری ہر سال یہ کوشش رہتی ہے کہ دنیا بھر کے جن جن ممالک سے کتابیں ہم پاکستان لاسکتے ہیں لے کر آئیں تاکہ یہاں کتب بینی کا کلچر فروغ پائے اور لوگ اپنے ملک کے ساتھ ساتھ دوسرے ممالک کی تہذیب و ثقافت کو بھی سمجھیں اور ان سے واقف ہوں تاکہ ان میں موجودہ اندرونی و بیرونی حالات کا مقابلہ کرنے کی اہلیت پیدا ہو۔

(فوٹو گیلری تصاویر عمیر بن ریاض)

عالمی کتب میلہ میں تقریباً سو پبلشرز شرکت کر رہے ہیں اور 250 ملکی و غیر ملکی بک اسٹالز یہاں لگائے گئے ہیں جن میں بھارت، ایران ، سنگاپور، تھائی لینڈ، یونان، برطانیہ وغیرہ کے پبلشرز بھی شامل ہیں اس کے علاوہ کئی ممالک کے پبلشرز یہاں خراب سیاسی حالات کی وجہ سے نہیں آسکے۔

دوسری جانب اس سال بھارت کے پبلشرز کو ویزہ بہت تاخیر سے ملا اور چار پانچ پبلشرز ہی آسکے جس کی وجہ سے دو تین اسٹالز خالی نظر آئے۔ بھارتی پبلشرز کی نمائندگی کرنے والے آر کے اہوجا نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ وہ 2005 ء سے یہاں آرہے ہیں اور یہاں بھارتی کتابیں شوق سے پڑھی جاتی ہیں۔ کئی دوسرے پبلشرز بھی آنے کے لیے ویزہ کے منتظر تھے لیکن ویزہ اب ملنے کی وجہ سے اب وہ نہیں آسکیں گے ۔ اس لیے ہم نے ایک ہی بڑا اسٹال یہاں لگا دیا ہے اور اور جو نہیں آسکے ان کی کچھ کتابیں ہم نے اپنے اسٹال میں شامل کرلی ہیں۔

کراچی میں پانچ روزہ عالمی کتب میلہ

کراچی میں پانچ روزہ عالمی کتب میلہ

منتظم خالد عزیز کا کہنا ہے کہ پاکستان میں تعلیم کو عام کرنا ان کے ادارے کا ایک بہت بڑا مقصد ہے اور کتاب کے بغیر تعلیم ممکن نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ نجی شعبے میں رہتے ہوئے اس طرح کے میلوں کو منعقد کر کے ہم یہ کوشش کر سکتے ہیں کہ اپنے بچوں اور نوجوانوں میں کتابوں سے دوستی کے رجحان کو فروغ دیں اور والدین کو کتابوں کی اہمیت کا احساس دلائیں۔ کیونکہ جب بچے اچھی کتابیں پڑھیں گے تو تربیت اچھی ہو گی اور پھر ایک اچھا اور تعلیم یافتہ آدمی جب ووٹ دیتا ہے تو نتیجے میں قیادت بھی اچھی آتی ہے جس سے ملک ترقی کرتا ہے۔

میلے کے دوران ایکسپو سینٹر میں مختلف ادبی سرگرمیوں کا اہتمام بھی کیا گیا ہے جن میں مختلف ٹاک شوز کے علاوہ سیمینارز اور ہر دو سے تین پبلشرز کی نئی کتابوں کی رونمائی بھی کی جائے گی ۔ کتابوں کے غیر ملکی اسٹالز کے علاوہ یہاں مقامی اور علاقائی زبانوں کی کتابوں کو بھی اہمیت دی گئی ہے ۔ خالد عزیز کا کہنا ہے کہ یہاں سندھی ، پشتو ، سرائیکی میں کتابوں کے اسٹالز ہیں تاکہ لوگ واقف ہوں کہ ان زبانوں میں کتنا کام ہو رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ گزشتہ سال ایک لاکھ نوے ہزار کے قریب خاندانوں نے ایکسپو سینٹر کا رخ کیا تھا ۔ یہاں آنے والوں میں خواتین اور بچوں کی تعداد سب سے زیادہ ہوتی ہے اور ہمارے لیے سب سے زیادہ خوش آئند بات یہ ہے کہ نوجوان مائیں خود بچوں کے لیے کتابوں کی خریداری میں دلچسپی لیتی ہیں۔

کراچی میں پانچ روزہ عالمی کتب میلہ

کراچی میں پانچ روزہ عالمی کتب میلہ

منتظمین کے بقول گذشتہ سالوں کی نسبت اس سال زیادہ تعداد میں پبلشرز اس عالمی کتب میلہ کا حصہ ہیں جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان میں کتب بینی کا شوق فروغ پارہا ہے ۔عالمی کتب میلہ کے منتظم خالد عزیز پر امید ہیں کہ اس سال بھی اہلیانِ کراچی بڑی تعداد میں ایکسپو سینٹر آئیں گے ۔ ان کے بقول” آنے والے چار دنوں میں یہاں لوگوں کا ایک رش ہوگا جس میں خواتین نمایاں ہوں گی۔ ان کے بقول ” ہمیں پاکستان کو آگے لے جانے کے لیے کتابوں کے کلچر کو پھیلانا ہو گا اور اپنے بچوں کو دنیا بھر کی اچھی اور خوبصورت کتابیں پاکستان لا کر دینا ہوں گی تاکہ ہمارے بچے اچھے ذہن اور خوبصورت شخصیت کے مالک بنیں اور ایک بہترین مستقبل ان کی منزل ہو۔ “

XS
SM
MD
LG