رسائی کے لنکس

سرحد پر فوجی رابطہ مراکز کی تعداد میں اضافہ


سرحد پر فوجی رابطہ مراکز کی تعداد میں اضافہ
سرحد پر فوجی رابطہ مراکز کی تعداد میں اضافہ

پاکستان میں فوجی ذرائع نے بتایا ہے کہ پاک افغان سرحد پر قائم فوجی رابطوں کے مشترکہ مراکز کی تعداد چار سے بڑھا کر پانچ کی جا رہی ہے۔

ان ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کسی بھی مرکز سے اپنے فوجیوں کو واپس نہیں بلا رہا البتہ دو مراکز پر تعینات سینئر افسران کو مشاورت کے لیے جی ایچ کیو طلب کیا گیا ہے۔

سرحد کی دونوں جانب عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کو موثر بنانے اور غلط فہمی کی بنیاد پر آپریشن کے امکانات کو کم کرنے کے لیے اس وقت چار ’بارڈر کوآرڈینیشن سینٹرز‘ کام کر رہے ہیں جن میں نیٹو، افغان اور پاکستانی فوجی افسران تعینات ہیں۔

یہ مراکزچمن، طورخم، باجوڑ اورمہند کے سنگم اور شمالی وزیرستان میں افغان سرحد پر قائم کیے گئے ہیں۔ تاہم فوجی ذرائع نے نئے مشترکہ مرکز کے مقام کے بارے میںٕ کوئی تفصیلات نہیں دی ہیں۔

26 نومبر کو پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی کے مقام سلالہ میں دو سرحدی چوکیوں پر نیٹو افواج نے فضائی حملے کر کے 24 پاکستانی فوجیوں کو ہلاک کردیا تھا جس کے بعد امریکہ اور پاکستان کے تعلقات سخت کشیدگی سے دوچار ہو گئے ہیں۔

امریکہ اور نیٹو نے اس واقعہ کو غیر ارادی قرار دینے کے بعد اس میں ہونے والے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اصل حقائق جاننے کے لیے اس کی تحقیقات شروع کررکھی ہیں۔ لیکن پاکستانی فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس تحقیقاتی عمل میں وہ شامل نہیں ہوں گے کیونکہ پاکستان کو یقین ہے کہ یہ حملہ ’’دانستہ‘‘ طور پر کیا گیا۔

ان ذرائع کا کہنا ہے کہ مہمند ایجنسی میں عسکریت پسندوں کا صفایا کرنے کے دوران 72 پاکستانی فوجی ہلاک اور لگ بھگ 250 زخمی ہو گئے تھے۔ ’’لیکن بین الاقوامی برادری ان قربانیوں کا اعتراف نہیں کر رہی، اور اس صورت حال میں اپنے اتحادی کی ہی کارروئی میں 24 اہلکاروں کی ہلاکت کے پاکستانی فوجیوں کے حوصلوں پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔‘‘

امریکہ نے مہمند حملے کی تحقیقات 23 دسمبر تک مکمل کر کے اس کے نتائج سے پاکستان کو آگاہ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ امریکی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں پاکستان کو بھی شمولیت کی دعوت دی گئی تھی لیکن اُس نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔

نیٹو حملے کے خلاف اپنے سخت ردعمل میں حکومتِ پاکستان نے کابینہ اور پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے اجلاسوں کے بعد امریکہ اور نیٹو کے ساتھ تعلقات کا از سر نو جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

جمعرات کو اسلام آباد میں ہفتہ وار نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے کہا کہ نیٹو حملے اور اس میں 24 پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد پاکستان کے لیے امریکہ اور نیٹو کے ساتھ موجودہ شرائط پر تعاون جاری رکھنا ممکن نہیں رہا تھا۔

لیکن اُنھوں نے کہا کہ مستقبل کے تعلقات کی نوعیت کیا ہوگی اور نظر ثانی کا عمل کب مکمل ہو گا اس بارے میں خیال آرائی قبل از وقت ہوگی۔ ’’پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بنیاد قومی خودمختاری کا تحفظ ہے اور یہ ملک میں امن و ترقی کے تقاضوں سے مطابقت رکھتی ہے۔‘‘

اُنھوں نے بتایا کہ دنیا کے اہم دارالحکومتوں میں پاکستانی سفیروں کا ایک اجلاس آئندہ ہفتے اسلام آباد میں بلایا گیا ہے جس میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بحیثیت مجموعی جائزہ لیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG