رسائی کے لنکس

آئی سی آئی جے نے کہا ہے کہ وہ 9 مئی کو ان دستاویزات میں موجود دو لاکھ آف شور کمپنیوں کی ’’قابل تلاش‘‘ معلومات آن لائن شائع کرے گی۔

’آف شور‘ کمپنیوں کے ذریعے بیرون ملک اثاثے اور جائیدادیں بنانے سے متعلق اپریل کے اوائل میں پاناما کی ایک لافرم موساک فونسیکا کی منظر عام پر آنے والی معلومات نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی۔

پاناما دستاویزات کا انکشاف کرنے والی تنظیم ’انٹرنیشنل کنسورشیئم آف انویشٹیگیٹو جرنلسٹس‘ (آئی سی آئی جے) کی طرف سے پاناما پیپرز کی دوسری قسط پیر کی شب دیر گئے جاری کی جا رہی ہے۔

’آئی سی آئی جے‘ نے کہا ہے کہ وہ 9 مئی کو ان دستاویزات میں موجود دو لاکھ آف شور کمپنیوں کی ’’قابل تلاش‘‘ معلومات آن لائن شائع کرے گی۔ اس سے قبل آف شور کمپنیوں کے بارے میں اتنی زیادہ معلومات ایک ساتھ کبھی منظر عام پر نہیں لائی گئیں۔

اپریل کے اوائل میں پاناما پیپرز میں پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کے دو بیٹوں حسین اور حسن نواز کے علاوہ بیٹی مریم نواز کے نام سامنے آنے کے بعد پاکستان میں حزب مخالف کی جماعتوں نے وزیراعظم کو آڑے ہاتھوں لیا۔

اس ضمن میں احتجاج ہوئے اور وزیراعظم سے استعفی کے مطالبات بھی۔

خود وزیراعظم کو دو مرتبہ اس معاملے پر ٹیلی ویژن اور ریڈیو کے ذریعے قوم سے خطاب کرنا پڑا اور اُنھوں نے حزب مخالف کے مطالبے کے مطابق اس معاملے کی تحقیقات سپریم کورٹ کی نگرانی میں کرانے کے لیے چیف جسٹس کو خط بھی لکھا۔

(آئی سی آئی جے) سے وابستہ لگ بھگ چار سو صحافیوں نے ایک کروڑ 10 لاکھ سے زائد دستایزوات کا ایک سال تک باریک بینی سے جائزہ لیا۔

دنیا کے 80 ممالک کے جن صحافیوں کے ’آئی سی آئی جے‘ کے اس کام میں حصہ لیا اُن میں پاکستان سے صحافی عمر چیمہ شامل ہیں۔

اُنھوں نے وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں کہا کہ ان انکشافات کے بعد پاکستان میں خاصی آگاہی پیدا ہوئی اور اُن کے بقول مزید افراد کے نام سامنے آنے کے بعد یہ معاملہ دبے گا نہیں۔

لیکن مجوزہ کمیشن کی تحقیقات کے لیے ضابطہ کار پر تاحال حکومت اور حزب مخالف کی جماعتوں کے درمیان اتفاق نہیں ہو سکا ہے۔

حکومت نے اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے مرتب کردہ ضابطہ کار کو غیر آئینی قرار دیا جب کہ حزب مخالف کی جماعتوں کی اس معاملے پر مشاورت جاری ہے۔

اُدھر پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں بھی حزب مخالف کی جماعتوں نے اس بارے میں احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ وزیراعظم پارلیمان میں آ کر وضاحت کریں۔

XS
SM
MD
LG