رسائی کے لنکس

عوام کو ریلیف دینے کی پوری کوشش کی: نواز شریف


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ موجود اقتصادی حالات میں حکومت نے بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کی پوری کوشش کی ہے۔

وفاقی بجٹ پر عوام کا بھی ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے لیکن حسب معمول اکثریت اس پر نالاں ہی دکھائی دی۔

لیکن وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ موجود اقتصادی حالات میں حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کی پوری کوشش کی ہے۔

بدھ کو ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے بجٹ پر تنقید کو مسترد کرتے ہوئے ہوئے کہا۔

"بڑا اچھا بجٹ پیش کیا ہے، غریبوں کو ریلیف دیا ہے، غریبوں کے لیے جو بھی اس وقت حالات تھے اس میں رہتے ہوئے ان کے لیے بھی سوچا ہے اور پاکستان کو کس طرح سے ترقی کے میدان میں لے جایا جا سکتا ہے تمام اقدامات انھوں (وزیرخزانہ) نے کیے ہیں۔"

اسلام آباد کے ایک معروف تجارتی مرکز آبپارہ میں نہ صرف مقامی بلکہ دوسرے شہروں سے آئے لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہوتی ہے۔ وائس آف امریکہ سے گفتگو میں لوگوں نے بجٹ پر کچھ یوں ردعمل کا اظہار کیا۔

ایک دکاندار ملک تیمور کا کہنا تھا کہ محصولات کے اہداف تو مقرر کر لیے جاتے ہیں لیکن اس کا نشانہ عوام ہی بنتے ہیں۔

"یہ باہر کے ملکوں کی مثال دیتے ہیں کہ وہاں ہر کوئی ٹیکس دیتا ہے تو وہاں یہ بھی تو دیکھیں کہ حکومت عوام کو سہولتیں بھی تو دیتی ہے۔۔۔ترقیاتی منصوبوں کے لیے جو رقم رکھی گئی ہے کیا پتا اس کا بھی کیا ہوگا۔"

عرفان شوکت تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ایک نجی ادارے میں ملازمت بھی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے سے خوش نہیں ہونا چاہیئے کیونکہ مہنگائی میں بھی اسی نسبت سے اضافہ ہو جاتا ہے۔

"مڈل کلاس فیملی کے لیے تو کچھ بھی نہیں۔۔۔سرکاری ملازمین اگر جتنی رقم پہلے بچاتے تھے مہینے میں اب بھی اگر اتنی ہی بچائیں تو کیا فائدہ ہوا ان کو۔۔۔مزدور کی ماہانہ آمدن 12 ہزار ہوگی یہ اعلان تو کر دیا لیکن حکومت اتنے پیسوں میں مزدور کے گھر کا بجٹ بھی بنا دیتی۔"

شعبہ تعلیم سے وابستہ فضل ودود بہرحال کچھ پرامید دکھائی دیے۔

"اتنے مشکل حالات میں جو بجٹ پیش کیا گیا بڑی کوشش کی ہے انھوں نے اس حکومت سے امید ہے کہ کچھ کر سکے، اگر اسے رہنے دیا گیا، خسارے کا بجٹ ہے پاکستان کا بجٹ کیسے اچھا ہوسکتا ہے اس میں ابھی وقت لگے گا، اتنی جلدی تو سب صحیح نہیں ہوسکتا۔"

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بدھ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس تاثر کو رد کیا کہ مالی سال 15۔2014 کے لیے بجٹ میں اشرافیہ کے مقابلے میں غریبوں کے لیے کچھ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال کی نسبت سوشل سیفٹی کے تحت غریب گھرانوں کے لیے 118 ارب روپے رکھے گئے جو کہ مالی سال 13۔2012 کے مقابلے میں 200 فیصد زیادہ ہیں اور اس سے 53 لاکھ گھرانے مستفید ہوں گے۔

"نہ کیا یہ سارا کام امیر آدمی کے لیے ہے ان (غریبوں) کا پہلا حق ہے، ایک سال میں جو 50 فیصد اضافہ کیا گیا ہے اور ایک سال میں اس میں دس لاکھ خاندان بڑھا رہے ہیں ہم، یہ ان کا حق ہے اور اللہ کرے کہ آنے والے سالوں میں اور فنانسز ہوں تاکہ ان پر ہم اور خرچ کر سکیں۔"
ان کا کہنا تھا کہ ملک کی معیشت کو صحیح سمت پر گامزن کرنے کے لیے ابھی مزید وقت درکار ہے اور اس ضمن میں کی جانے والی حکومتی کوششوں کے ثمرات آئندہ آنے والے سالوں میں سامنے آئیں گے۔
XS
SM
MD
LG