رسائی کے لنکس

وزیرِ اعظم نواز شریف اس ضمن میں مختلف اداروں میں اہل اور قابل افراد کی جلد از جلد بھرتیوں کی ہدایت دے چکے ہیں۔

پاکستان میں انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کے ضمن میں حکومت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار بڑھانے اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے درمیان روابط کو موثر بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیر اعظم نواز شریف نے رواں ہفتے دو اعلٰی سطحی اجلاسوں میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے جہاں جامع منصوبہ بندی کا حکم دیا، وہیں اُنھوں نے سلامتی سے متعلقہ اداروں میں نئی بھرتیوں پر عائد پابندی کے خاتمے کا اعلان بھی کیا۔

اُنھوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ اہل افراد کی خدمات حاصل کریں تاکہ قیام امن کے لیے کی جانے والی کوششیں کارگر ثابت ہو سکیں۔

وزیر اعظم نے سویلین خفیہ ادارے انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) اور ملک کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کی حکومت کے الگ الگ اجلاسوں میں حکم دیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار بڑھانے کے لیے بھرتیوں کے عمل کا آغاز جلد از جلد کیا جائے۔

حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے اعلٰی عہدیدار صدیق الفاروق نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ وزیر اعظم قوم سے اپنے حالیہ خطاب میں بھی یہ نشاندہی کر چکے ہیں کہ سکیورٹی اداروں کی استعداد کار بڑھائے بغیر دہشت گردی کے مسئلے سے نمٹنا ممکن نہیں۔

’’کچھ تربیت یافتہ لوگ ایسی ذمہ داریوں پر معمور ہیں کہ اُنھیں زیادہ بہتر فرائض سونپے جا سکتے ہیں ... کہیں آلات کی ضرورت ہے تو کہیں افراد، اُن کو ہم پورا کریں گے۔‘‘

اُدھر سابق سیکرٹری داخلہ تسنیم نورانی کہتے ہیں کہ سکیورٹی سے متعلق حکومت کی پالیسی اُسی وقت واضح ہو گی جب انسداد دہشت گردی کی مجوزہ قومی حکمت عملی کا اعلان کیا جائے۔

اُن کے بقول اس وقت تک صورت حال اس لیے واضح نہیں کیوں کہ ایک طرف تو حکومت طالبان سے رابطے کر رہی اور دوسری جانب دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کوششوں میں تیزی آئی ہے۔

’’انٹیلی جنس اداروں کی استعداد کار بڑھائی جا رہی ہے، میں نہیں سمجھتا کہ صرف استعداد کا مسئلہ ہے، اداروں کے درمیان مربوط رابطوں کا بھی فقدان ہے اس لیے سب چیزوں میں ہم آہنگی ہی سے صورت حال میں بہتری آئے گی۔‘‘

اُدھر وفاقی دارالحکومت کے مضافاتی علاقے بارہ کہو میں پولیس نے کارروائی کرکے دہشت گردی کے ایک بڑے منصوبے کو ناکام بنا دیا۔

اسلام آباد پولیس کے اسسٹنٹ انسپکٹر جنرل سلطان عاضم تیموری نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ ایک گھر پر چھاپے کے دوران بارود سے بھری گاڑی ملی۔

’’گاڑی کے مختلف حصوں میں بارودی مواد چھپایا گیا تھا اور 125 کلو گرام دھماکا خیز مواد برآمد کیا گیا ہے۔ ہم کئی مشتبہ افراد سے تفتیش کر رہے ہیں۔‘‘

رواں ہفتے ہی وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے بتایا تھا کہ اسلام آباد پولیس کی استعداد کار بڑھانے کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن میں انٹیلی معلومات کے حصول اور تبادلے کے نظام میں بہتری کے علاوہ خصوصی دستوں کی تربیت اور تعیناتی بھی شامل ہے۔
XS
SM
MD
LG