رسائی کے لنکس

پاکستان میں اپنی نوعیت کی پہلی ’بزنس ٹرین‘ کا افتتاح


پاکستان میں اپنی نوعیت کی پہلی ’بزنس ٹرین‘ کا افتتاح

پاکستان میں اپنی نوعیت کی پہلی ’بزنس ٹرین‘ کا افتتاح

پاکستان میں بزنس ٹرین کا افتتاح ہوگیا ہے ۔پہلی ٹرین صرف پندرہ گھنٹے کا سفر طے کرکے لاہور سے کراچی پہنچے گی۔ ٹرین کا باقاعدہ افتتاح وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے جمعہ کی دوپہر کیا۔ ٹرین لاہور سے روانہ ہوگی جس میں سفر کے لئے ہر مسافر کو پانچ ہزار روپے ادا کرنا ہوں گے ۔ اس کرائے میں شام کی چائے، رات کا کھانا اور اگلی صبح کا ناشتہ بھی شامل ہے۔ ایک اضافی فائدہ یہ بھی ہے کہ اس ٹرین کے ہر مسافر کو ریلوے کی جانب سے تکیہ، چادر اور کمبل بھی اسی کرائے میں مہیا کئے جائیں گے۔

پاکستان ریلوے کی جانب سے جاری کردہ اطلاعات کے مطابق کرائے میں سے 88 فیصد رقم ریلوے اور 12 فیصد نجی کمپنی کو ملے گی۔ ریلوے کا حصہ بڑا رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ اسٹیشنز،ریلوے ٹریکس، سگنلز، ڈیزل اورعملہ محکمہ ریلوے ہی فراہم کرے گا تاہم ریزرویشن اورٹکٹ چیکنگ کا عملہ نجی کمپنی کا ہوگا۔

پاکستان ریلوے کا کہنا ہے کہ اس نے ملک کی پہلی بزنس ٹرین چلائے جانے کے لئے تمام تیاریاں پہلے ہی مکمل کرلی تھیں ۔ بزنس ٹرین کا ٹھیکہ نجی شعبے کی ایک کمپنی کو دیا گیا ہے جو انجنوں کی مرمت اور بوگیوں کی آرائش کیلئے ریلوے انتظامیہ کوپہلے ہی 25 کروڑ روپے اداکرچکی ہے ۔ انجنوں و بوگیوں کی مرمت اورتزئین و آرائش کا کام ریلوے کے ٹیکنیکل عملے نے انجام دیاہے۔

محکمہ ریلوے کے مطابق نجی شعبے کے تحت چلنے والی یہ پہلی نان اسٹاپ بزنس ٹرین ہے ۔ ٹرین کا افتتاح پچھلے ماہ کی 26تاریخ کو ہونا تھا تاہم ناگزیروجوہ کے سبب اسے جمعہ3فروری تک کے لئے ملتوی کردیا گیا تھا۔اس طرح یہ منصوبہ آٹھ دن کی تاخیر سے آج شروع ہوا ۔

بزنس ٹرین کراچی سے لاہورکے درمیان چلائی جائے گی اور ایک دن کے وقفے سے باری باری لاہور اور کراچی سے چلا کرے گی۔ بزنس ٹرین چلانے کے لئے پاکستان ریلوے اورنجی کمپنی فور برادرز انٹرنیشنل کے درمیان اگست می2011 میں22 کروڑ 57 لاکھ روپے کا معاہدہ ہوا تھا۔

بزنس ٹرین کے لیے تیز گام، خیبرمیل، نائٹ کوچ، ملت ایکسپریس اور قراقرم سے چین کی بنی ہوئی بوگیاں نکالی گئی ہیں اور خصوصی طور پر مرمت شدہ ریلوے انجن بھی فراہم کئے گئے ہیں۔ بزنس ٹرین دن کے وقت ساڑھے تین بجے چلاکرے گی۔

مبصرین کے مطابق اگر بزنس ٹرین کامیاب رہی تو یہ اربوں روپے کے خسارے کا سامنا کرنے والے محکمہ ریلوے کو نئی زندگی بخشنے کا سبب توہوگی ہی ساتھ ہی پاکستان ریلوے کی تاریخ میں ایک انتہائی اہم سنگ میل بھی ثابت ہو گی۔

XS
SM
MD
LG